| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پرروزِ جُمُعہ دو سو بار دُرُود پاک پڑھا اُس کے دو سو سال کے گناہ مُعاف ہوں گے۔
کھاتا رہتا ہے * اِس کو تو ہر وقت کھانے ہی کی پڑی رہتی ہے*بے چبائے نگل جاتا ہے* بوٹیاں اپنی طرف سَر کا لیتا ہے* جہاں نیاز کا کھانا ہووہاں پہنچ جاتا ہے* قراٰن خوانی/ا جتماع/اجتِماعِ ذکر و نعت /عرس شریف میں کھانے کے وقت پہنچتا ہے * میِّت کے تیجے کا کھانا بھی نہیں چھوڑتا* بولتا بہت ہے * دوسروں کی باری نہیں آنے دیتا * دوسروں کی بات کاٹ دیتا ہے* اگلے کو باتوں ہی باتوں میں کھا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔مذکورہ روایت سے حضرات شیخین کریمین یعنی سیِّدَینا صدّیقِ اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں کسی طرح کی بُرائی ذِہن میں نہ لائی جائے ، یہ زمانہ تربیَّت کے مُعاملات ہیں۔ صَحابہ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان کے اس طرح کیمُتَعَدِّد واقِعات کُتُبِ احادیث میں ملتے ہیں۔ چُنانچِہ
پیچھے سے اشارۃً ''ٹھگنا''کہنا غیبت ہے
اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رِوایَت فرماتی ہیں:میں نے نبیِّ کریم،
رء ُوفٌ رَّحیم علیہ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیم
سے عرض کی :صَفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ایسی ہیں ایسی ہیں یعنی پَستہ قد ہیں، حضور (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم )نے ارشاد فرمایا کہ ''تم نے ایسا کلمہ کہا(یعنی ایسی بات کہی)کہ اگر سمندر میں ملایا جائے تواُس پر غالب آجائے۔''
(سُنَنِ ابوداو،د ج۴ص۳۵۳حدیث ۴۸۷۵)
یعنی کسی پستہ قد کوبھی *پَستہ قد* ناٹا* ٹھگنا کہنا غیبت میں داخِل ہے، جبکہ بِلاضَرورت ہو۔
کسی کے فِطری عیب بیان کرنا بڑے خوف کی بات ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!لمبا اور ٹھگنا وغیرہ ہونا یہ فطری عُیُوب ہیں بِلا مَصلَحتِ شرعی پیٹھ پیچھے کسی مسلمان کے ان عیبوں کا تذکرہ بھی غیبت ہے بلکہ اِس کے بارے میں حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:اگراس کے عیب کا تعلُّق اس کی خِلقت (یعنی فطرت)سے ہے تو اس کی بُرائی بیان کر نا گویا