حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صدّیق اور حضرتِ سیِّدُنا عمرِ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ ان میں سے ایک نے دوسرے سے فرمایا کہ
اِنَّ فُلا نًا لَنَؤُوْمٌ
یعنی فلاں شخص بَہُت سوتا ہے پھر انہوں نے سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سالن مانگا تا کہ روٹی کھائیں ،نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :تم سالن کھا چکے ہو اُنہوں نے عرض کی:ہمیں تو اس کا علم نہیں۔ فرمایا:ہاں کیوں نہیں تم دونوں نے اپنے بھائی کا گوشت کھایا ہے۔
( اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۸۰، اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی ج۹ص۳۰۷)
غیبت سننے والا بھی غیبت کرنے میں شریک ہے
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی یہ حدیثِ پاک نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: تو دیکھو کس طرح سلطانِ انبیاء صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم نے دونوں کو اس مسئلے میں جمع کیا (حالانکہ زبان سے صرف )ایک نے غیبت کی مگر دوسرے نے اسے سنا(لہٰذا وہ بھی غیبت میں شریک ٹھہرائے گئے)
(اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۸۰)
کھانے اوربولنے سے مُتَعَلِّق غیبت کی 12مثالیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا زیادہ سونے والے کے بارے میں پیچھے سے کہنا کہ ''سوتا بہت ہے'' غیبت ہے۔ مزید کھانے اور بولنے سیمُتَعَلِّق غیبت کی 12مثالیں مُلاحَظہ ہوں:* کھاتا بَہُت ہے * جب دیکھو