مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:یعنی جو شخص زَبان کا بے باک ہوکہ ہر بُری بھلی بات بے دھڑک منہ سے نکالدے تو سمجھ لو کہ اس کا دل سخت ہے اس میں حیا نہیں ۔سختی وہ درخت ہے جس کی جڑ انسان کے دل میں ہے اور اس کی شاخ دوزخ میں۔ ایسے بے دھڑک انسان کا انجام یہ ہو تا ہے کہ وہ اللہ رسول (عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی بارگاہ میں بھی بے ادب ہو کر کافر ہو جا تا ہے۔
جی چاہتا ہے خوب گناہوں پہ میں روؤں
افسوس مگر دل کی قَساوَت۱؎ نہیں جاتی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
غیبت کرنے والا قابلِ رحم ہے!
ایک بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کسی نے کہا: فُلاں شخص آپ کی اس قَدَر برائی بیان کرتا ہے کہ مجھے آپ پر رحم آتا ہے۔فرمایا :''قابلِ رحم تووہ شخص خود ہے ۔ ''
سبحٰنَ اللہ ! ہمارے بُزُرگوں کا اِخلاص و اَخلاق صد کروڑ مرحبا!ان کی مَدَنی سوچ کی بھی کیا بات ہے!اپنی بے تحاشا برائیاں کرنے والے پر بھی غصّہ نہیں آ رہا بلکہ دل مطمئن ہے کہ میرا اپنا کیا جاتا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(1)یعنی سختی