مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:(بعض اوقات آدمی)کوئی بات ایسی بُری بول دیتا ہے جس سے رب تعالیٰ ہمیشہ کے لیے ناراض ہو جاتا ہے لہٰذا انسان کو چاہے کہ بَہُت سوچ سمجھ کر بات کیاکرے ۔ حضرتِ سیِّدُنا عَلقَمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)فرمایا کرتے تھے کہ مجھے بَہُت سی باتوں سے بِلال ابنِ حارث(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کی (مذکورہ)حدیث روک دیتی ہے۔(مرقات)یعنی میں کچھ بولنا چاہتا ہوں کہ یہ حدیث سامنے آ جاتی ہے اور میں (اس خوف سے)خاموش ہو جاتا ہوں۔(کہ کہیں ایسی بات منہ سے نہ نکل جائے جس کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیشہ کیلئے مجھ سے ناراض ہو جائے)
قفلِ مدینہ لگانے ہی میں عافیّت ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بے سوچے سمجھے بول پڑنا بے حد خطرناک نتائج کاحامل ہوسکتا اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہمیشہ ہمیشہ کی ناراضی کا با عِث بن سکتا ہے۔ یقینا زَبان کا قفلِ مدینہ لگانے یعنی اپنے آپ کو غیرضَروری باتوں سے بچانے ہی میں عافیّت ہے۔ خاموشی کی عادت ڈالنے کیلئے کچھ نہ کچھ گفتگو لکھ کر یا اشارے سے کر لیا کرنا بے حد مفید ہے کیونکہ جو زیادہ بولتا ہے عُمُوماً خطائیں بھی زیادہ کرتا ہے، راز بھی فاش کر ڈالتا ہے۔ غیبت وچغلی اور عیب جُوئی جیسے گناہوں سے بچنا بھی ایسے شخص کیلئے بَہُت دشوار ہوتاہے بلکہ بک بک کا عادی بعض اوقات معاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ کُفریات بھی بک ڈالتا ہے!
اللہُ رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ ہم پر رحم فرمائے اور ہماری زَبان کو لگام نصیب کرے کہ یہ ذکرُ اللہ سے غافِل رہ کرفُضُول بو ل بول کردل کو بھی سخت کردیتی ہے ۔ اللہُ غنی عَزَّوَجَلَّ کے پیارے نبی مکّی مَدَنی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :فحش گوئی سخت دِلی سے ہے اور سخت دلی آگ میں