دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ 480 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بیاناتِ عطّارِیَّہ''حصّہ اوّل کے صَفْحَہ113 تا115 پر ہے:''مِنہاجُ العابِدین''میں ہے:حضرتِ سیِّدُنا فُضَیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے ایک شاگِرد کی نَزع کے وَقت تشریف لائے اور اُس کے پاس بیٹھ کر سورہ یٰس شریف پڑھنے لگے۔ تو اُس شاگِرد نے کہا:''سورہ یٰس پڑھنا بند کر دو۔ ''پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے کلمہ شریف کی تلقین ۱؎ فرمائی۔و ہ بولا:میں ہرگزیہ کلمہ نہیں پڑھوں گا میں اِس سے بَیزار ہوں۔ ''بس انہیں الفاظ پر اُس کی موت واقِع ہوگئی۔ حضرتِ سیِّدُنافُضَیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اپنے شاگِرد کے بُرے خاتِمے کا سخت صدمہ ہوا۔ چالیس ۴۰ روز تک اپنے گھر میں بیٹھے روتے رہے۔ چالیس ۴۰ دن کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ فِرِشتے اُس شاگرد کو جہنَّم میں گھسیٹ رہے ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُس سے اِستِفسار فرمایا:کس سبب سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیری مَعرِفَت سَلب فرمالی؟ میرے شاگردوں میں تیر ا مقام تو بَہُت اونچا تھا! اُس نے جواب دیا: تین عُیُوب کے سبب سے:(۱)چُغلی کہ میں اپنے ساتھیوں کو کچھ بتاتا تھا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کچھ اور(۲)حَسَد کہ میں اپنے ساتھیوں سے حَسَد کرتا تھا (۳)شراب نَوشی کہ ایک بیماری سے شِفاپانے کی غَرَض سے طبیب کے مشورے پر ہر سال شراب کا ایک گلاس پِیتا تھا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(1)مرنے والے كو یہ نہ كہا جائے كہ كلمہ پڑھ بلكہ تلقین كا صحیح طریقہ یہ ہے كہ سكرات والے كے پاس بُلند آواز سے كلِمہ شریف كا وِرد كیا جائے تاكہ اسے بھی یاد آجائے۔