ترجَمہ کنزالایمان:اور پرہیزگاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں ،ہاں نصیحت دینا شاید وہ باز آئیں۔
حضرتِ صدر ا لْافاضِل مولیٰنا سیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی خَزائنُ العرفان میں اس آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں:اس آیت سے معلوم ہوا کہ پند و نصیحت اور اظہارِ حق کے لئے ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے ۔
حَجّاج بن یوسف کی غیبت سے بھی پرہیز
ہمار ے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المبین کو غیبت کے مُعامَلے میں اللہُ داوَرعَزَّوَجَلَّ کا اس قدر ڈر رہتا تھا کہ جن کے ظلم و ستم کی داستانیں مشہور و معروف ہوتیں ان کا بھی بِلاضَرورتِ شرعی تذکِرہ کرنے سے بچتے تھے جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ا سمٰعیل حقّی علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی نقل کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا امام محمد ابنِ سیرین علیہ رَحمَۃُ اللہِ المُبین سے عرض کی گئی:کیا بات ہے کہ آپ نے کبھی بھی حجّاج(بن یوسف )کے بارے میں دو لفظ نہیں بولے!(یعنی اُسے بُرا بھلا نہیں کہا)فرمایا:''میں (اللہ عَزَّوَجَلّ کی خفیہ تدبیر سے )ڈرتا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ قِیامت کے دن اللہ تعالیٰ تَوحید کی بَرَکت سے اسے توچھوڑ دے (یعنی چُونکہ وہ مسلمان تھا لہٰذا اِس نسبت کے سبب اپنے فضل و کرم سے اُسے بے حساب بخش دے)اور مجھے اُس کی غیبت کرنے کی وجہ سے عذاب میں مبتَلا فرما دے۔''
(تفسیر روحُ الْبیان ج۹ ص۹۰)