Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
171 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)تم جہاں بھی ہو مجھ پر دُرُود پڑھوکہ تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے ۔
نہیں ہوتی ! شاید کوئی کہے کہ کیوں نہیں ہم نے فُلاں اخبار میں پڑھاتھا، اب بِالفرض وہ اخبار فلمی اداکاراؤں کی فُحش اداؤں کی تصویروں سے بھر پور اشتہاروں، گندی حرکتوں کی جذبات بھڑکانے والی(SEX APPEALING)خبروں ، چُھپ کر گناہ کرنے والوں کی بِلاضَرورتِ شرعی آبروریزیوں ، حکمرانوں، سیاست دانوں اور معاشرے کے ہر طبقے کے مسلمانوں کی تذلیلوں، تہمتوں اور الزام تراشیوں اور مرے ہوئے مسلمانوں تک کی غیبتوں سے بھر پور رہتا ہو تو میرے خیال میں اگر کوئی ولیُّ اللہ بھی غیبتوں اور گناہوں بھری خبروں سے بھر پور اور بے پردہ عورَتوں کی تصویروں سے معمورایسا اخبار پڑھنے میں مشغول ہو تو شاید اپنی ولایت نہ بچا پائے!برائیوں سے سرشارکسی ایسے اخبار میں چَھپی ہوئی

''عیب دریوں اور غیبتوں بھری خبر''کو دلیل کیسے بنایا جا سکتا ہے!اگر خبر سچّی بھی تھی تب بھی بِلا مصلَحتِ شرعی کسی مسلمان کی بُرائی (چھاپنے اور)بیان کرنے اور اِس طرح کی گناہوں بھری خبر بِلا اجازتِ شرعی پڑھنے کی شریعت نے کب اِجازت دی ہے!اِسی کو تو اسلام نے عیب دری اور غیبت قرار دیکر اس کی بھر پور انداز میں حوصلہ شکنی فرمائی ہے۔
کُتّوں کی طرح کاٹتے اور نوچتے ہوں گے!
بَہرحال ایسی صحبتوں اور بیٹھکوں کو تَرک کرناضَروری ہے جن میں گناہوں بھری بحثیں چِھڑتیں ، حالاتِ حاضِرہ پر فُضُول تبصرے ہوتے ، مسلمانوں کی عزّتیں پامال ہوتیں اور خوب غیبتیں کی جاتی ہیں۔ آپ کی تَخویف (یعنی عذاب سے ڈرانے)کیلئے عرض ہے کہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 300 صَفَحات پر مشتمل کتاب ، ''آنسوؤں کادریا''صَفْحَہ 253 پر ہے:ایک بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب قِیامت کا دن آئے گا تواللہ عَزَّوَجَلّ َکی نافرمانی کے لئے مل کربیٹھنے والے اور گناہوں پر ایک دوسرے کی مدد کرنے والے جمع ہوں گے ،پھر وہ گُھٹنوں کے بل کھڑے ہوں گے اور ایک دو سرے کو کتّوں کی طر ح کاٹتے اور نوچتے ہوں گے  ،یہ وہ بد نصیب ہوں گے  جو بِغیر تو بہ کئے دنیا سے رخصت ہوئے ہوں گے  ۔
(بَحرُالدُّمُوع(عربی) ۱۸۵)
Flag Counter