نہیں ہوتی ! شاید کوئی کہے کہ کیوں نہیں ہم نے فُلاں اخبار میں پڑھاتھا، اب بِالفرض وہ اخبار فلمی اداکاراؤں کی فُحش اداؤں کی تصویروں سے بھر پور اشتہاروں، گندی حرکتوں کی جذبات بھڑکانے والی(SEX APPEALING)خبروں ، چُھپ کر گناہ کرنے والوں کی بِلاضَرورتِ شرعی آبروریزیوں ، حکمرانوں، سیاست دانوں اور معاشرے کے ہر طبقے کے مسلمانوں کی تذلیلوں، تہمتوں اور الزام تراشیوں اور مرے ہوئے مسلمانوں تک کی غیبتوں سے بھر پور رہتا ہو تو میرے خیال میں اگر کوئی ولیُّ اللہ بھی غیبتوں اور گناہوں بھری خبروں سے بھر پور اور بے پردہ عورَتوں کی تصویروں سے معمورایسا اخبار پڑھنے میں مشغول ہو تو شاید اپنی ولایت نہ بچا پائے!برائیوں سے سرشارکسی ایسے اخبار میں چَھپی ہوئی
''عیب دریوں اور غیبتوں بھری خبر''کو دلیل کیسے بنایا جا سکتا ہے!اگر خبر سچّی بھی تھی تب بھی بِلا مصلَحتِ شرعی کسی مسلمان کی بُرائی (چھاپنے اور)بیان کرنے اور اِس طرح کی گناہوں بھری خبر بِلا اجازتِ شرعی پڑھنے کی شریعت نے کب اِجازت دی ہے!اِسی کو تو اسلام نے عیب دری اور غیبت قرار دیکر اس کی بھر پور انداز میں حوصلہ شکنی فرمائی ہے۔