| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رَحمتیں بھیجتا ہے۔
غیبت میں شرکت کے تمام انداز گناہ ہیں
غیبت سننے پر خوش ہونا اور اس کی طرف توجّہ سے کان لگانا دلچسپی لیتے ہوئے ہاں ،ہوں، ہیں،جی وغیرہ آوازیں نکالنا بھی غیبت ہے۔ غیبت سننے والے کی اِس حَرَکت سے غیبت کرنے والے کو مزیدتقویّت ملتی ہے اور وہ مزید بڑھ چڑھ کر غیبت کرتا ہے ، اِسی طرح غیبت سُن کر خوشی اور تَعَجُّب کااظہار بھی گناہ ہے مَثَلاً حیرت کے ساتھ کہنا: ارے!یہ ایسا شخص ہے! میں تو اِس کو اچّھا آدمی سمجھتا تھا۔ دلچسپی کے ساتھ غیبت سننے، تَعَجُّب کا اظہار کرنے، ہاں میں ہاں ملانے کے انداز میں سَرہِلانے وغیرہ میں غیبت کرنے والے کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی کا سامان ہے بلکہ ایسے موقع پر بلا اجازتِ شرعی خاموش رہنے والا بھی غیبت میں شریک ہی مانا جائیگا۔
(ماخوذ از :اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۸۰)
بادشاہ کی سڑی ہوئی لاش
ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے حضرتِ سیِّدُنا میمون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے ایک بادشاہ کی بُرائیاں بیان کرنا شُروع کردیں ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خاموشی سے سنتے رہے ،خُوداس کے بارے میں کوئی اچّھی یا بُری بات نہیں کی ۔ جب رات سوئے تو خواب میں دیکھا کہ اُسی بادشاہ کی سڑی ہوئی بدبودار لاش آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے رکھی ہے اور ایک آدمی کہہ رہا ہے:''اسے کھاؤ!''فرمایا: میں اِسے کیوں کھاؤں؟اُس نے جواب دیا :اِس لئے کہ تمہارے سامنے اِس بادشاہ کی غیبت کی گئی تھی ۔ فرمایا:مگر میں نے تو اس کے بارے میں کوئی اچّھا یا بُرا کلام نہیں کیا !جواب ملا:لیکن تم اس کی غیبت سننے پر رِضا مند تھے۔
(صِفَۃُ الصَّفوۃ لابن الجوزی ج۳ص۱۵۴)
حضرتِ سیِّدُنا حَزْم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنامَیمون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خُود کسی کی غیبت کرتے نہ اپنے سامنے کسی کو غیبت کرنے دیتے بلکہ اگر کوئی غیبت کرنے کی کوشش کرتا تو اسے منع فرما دیتے اگر وہ باز آجاتا تو ٹھیک ورنہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے اُٹھ کھڑے ہوتے۔
(حِلْیَۃُ الْاولیاء ج۳ ص۱۲۷رقم ۳۴۱۸)