میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غیبت کی بد خصلت سے جان چھڑایئے، نیکیاں بچایئے بلکہ خوب بڑھایئے، نیکیاں بڑھانے کے مکی مَدَنی نسخے اپنایئے اور جنّت الفردوس کے حقدار بن جایئے،
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ!
کتنے خوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں جواپنی زَبان کو نیکی کی دعوت، سنتو ں بھرے بیان اور ذکر ودرود میں لگائے رکھتے ہیں۔مسلمان کی حاجت روائی کرناکارِ ثواب ہے نیز بیمار یا پریشان مسلمان کو تسلّی دینا بھی زَبان کا عظیم الشان استِعمال ہے ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُناعبدا للہ ا بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اورحضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے دونوں فرماتے ہیں: جو اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لئے جاتاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس پرپَچَھتَّر ہزار مَلائکہ کے ذَرِیعے سایہ فرماتا ہے ، وہ فرِشتے اس کے لئے دُعا کرتے ہیں اور وہ فارِغ ہونے تک رَحمت میں غو طہ زَن رَہتا ہے اور جب وہ اِس کام سے فارِغ ہوجاتاہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے لئے ایک حج اور ایکعُمرے کا ثواب لکھتاہے ۔اور جس نے مریض کی عِیادت کیاللہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر پَچَھتَّر ہزار مَلائکہ کے ذَرِیعے سایہ فرمائے گا اور گھر واپَس آنے تک اسکے ہرقدم اٹھانے پر اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اس کے ہر قدم رکھنے پر اس کا ایک گناہ مٹادیا جائے گا اورایک دَرَجہ بلند کیا جائے گا، جب وہ مریض کے ساتھ بیٹھے گا تورحمت اسے ڈھانپ لے گی اور اپنے گھر واپس آنے تک رَحمت اسے ڈھانپے رہے گی ۔
(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطّبَرانی ج۳ص۲۲۲حدیث۴۳۹۶)