Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
166 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اُس نے مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھا تحقیق وہ بد بخت ہوگیا۔
آدھے گناہ مُعاف
حضرتِ سیِّدُناعطاء خُراسانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبّانی فرماتے ہیں :اگر کوئی آپ کی غیبت کرے تو پریشان نہ ہوں، غیبت کرنے والا نادانِستہ طور پرآپ ہی کے ساتھ بھلائی کر رہا ہے!ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جس کی ایک بار غیبت کی جائے اُس کے نِصف (یعنی آدھے)گناہ مُعاف ہو جاتے ہیں۔
(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۴)
ساری رات کی عبادت اور غیبت
ایک بار حضرتِ سیِّدُنا حاتم اَصم علیہ رَحمَۃُ اللہِ الاکرم کی نماز ِتَہجُّد فوت ہو گئی تو زوجہ محترمہ نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اس پر عار(یعنی غیرت)دلائی ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:گزَشتہ شب کچھ افرادساری رات نوافِل میں مصروف رہے ہیں اور صبح انہوں نے میری غیبت کی ہے تو ان کی اس رات کی عبادت بروزِقیامت میرے میزانِ عمل(یعنی اعمال تُلنے کی ترازو)میں رکھ دی جائے گی!
(مِنْھاجُ الْعابِدِین ص۶۶)
100برس کی نفلی عبادت اور ایک غیبت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المبین کے فرامِین میں حکمت کے بے شمار مَدَنی پھول ہوتے ہیں،مذکورہ حِکایت میں غیبت کرنے والوں کو بڑے اچُھوتے انداز میں چوٹ لگائی گئی ہے تا کہ وہ غیبتیں کر کے اپنی عبادتیں داؤ پر نہ لگائیں،اِس حِکایت سے یہ مَدَنی پھول بھی ملا کہ جو آدَمی خواہ ساری ساری رات عبادات میں گزارے مگر غیبتوں سے باز نہ آئے تو اُس کی عبادات و رِیاضات اُن لوگوں کو دے دی جائیں گی جن کی غیبتیں اور حق تلفیاں کی ہیں!سچ پوچھو تو100برس کی نفلی عبادت کے مقابلے میں صِرف ایک بار کی غیبت زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ اگر کوئی شخص زندگی میں کبھی بھی نفلی عبادت نہیں کریگا تب بھی قِیامت میں اِس پر اُس کی گرِفت (یعنی پکڑ)نہیں ہے جب کہ غیبت میں ربُّ العزّت کی مَعصیَت (یعنی نافرمانی)اور ثوابِ آخِرت کی اِضاعَت(یعنی ضائِع ہونا)اورہلاکت ہے۔ دنیا کی ساری
Flag Counter