Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
165 - 504
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس کے پاس میرا ذکر ہو اور اُس نے مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھا اُس نے جفاء کی۔
جس کی غیبت کی جائے وہ فائدے میں۔۔۔۔
جب آپ کو معلوم ہو کہ میری غیبت کی گئی ہے تو سِیخ پا ہونے(یعنی غصّے میں آ جانے)کے بجائے صَبْر و تَحمُّل(تَ۔ حَم۔مُل)سے کام لیجئے اور یوں بھی نقصان اُسی کا ہوتا ہے جس نے غیبت کی ، جس کی غیبت کی گئی وہ توفائدے ہی میں رہتا ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:بندے کو قِیامت کے دن جب اس کا نامہ اعمال دیا جائے گا تو وہ اُس میں ایسی نیکیاں دیکھے گا جو اِس نے نہ کی ہوں گی، عرض کریگا:اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ!یہ میرے لیے کہاں سے آگئیں ؟ کہا جائے گا: یہ وہ نیکیاں ہیں جو لوگوں نے تمہاری غیبت کی تھی۔
(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۲)
میری ماں میری نیکیوں کی زیادہ حقدار ہے
حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے کسی نے غیبت کا تذکرہ کیا تو فرمایا:اگر میں کسی کی غیبت کرنا دُرُست جانتا تو اپنی ماں کی غیبت کرتا کیونکہ میری نیکیوں کی سب سے زیادہ حقدار وُہی ہے۔
(مِنْھاجُ الْعابِدِین ص۶۵)
ماں کے پورے حقوق ادا نہیں کئے جاسکتے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دل کو چوٹ لگانے کیلئے اِس حِکایت میں عبرت کے کافی مَدَنی پھول ہیں، گویا فرما رہے ہیں کہ نیکیاں چُونکہ انمول ہیں اور ماں کے حُقُوق سے بھی سُبکدَوشی ممکن نہیں لہٰذا اگر نیکیاں کسی کو دینی ہی ہوں تو انسان اپنی ماں ہی کو کیوں نہ دیدے !اِس حِکایت سے ماں کی اَھمِّیَّت کا بھی پتا چلتا ہے ۔ بَہَرحال غیبت میں کوئی بھلائی نہیں اِس میں رسوائی ہی رسوائی ہے۔
اے  پیارے  خدا  از  پئے  سلطانِ مدینہ

غیبت کی نُحوست سے مِری جان چھڑادے
Flag Counter