Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
163 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر ہو ا وروہ مجھ پر دُرُود پاک نہ پڑھے۔
انتہاہے ۔
فِراق ووَصل چہ خَواہی رِضائے دوست طَلَب

کہ   حَیْف  باشَد   اَز  و  غیرِ   اُو  تمنّائی
(یعنی نزدیکی ودُوری سے کیا مطلب !دوست کی خوشنودی طلب کر کہ اِس کے علاوہ دوست سے کسی اور شے کی آرزو کرنا قابلِ افسوس ہے )
جلوہ  یار ادھر بھی کوئی پھیرا تیرا

حسرتیں آٹھ پَہَر تکتی ہیں رستہ تیرا
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
غیبت نیکیوں کو جلا دیتی ہے
آہ!ہمارے مُعاشَرے کی بربادی ! افسوس صد کروڑ افسوس !غیبت کرنے اور سننے کی عادت نے ہر طرف تباہی مچا رکھی ہے۔ مَنقول ہے:آگ بھی خُشک لکڑیوں کو اتنی جلدی نہیں جلاتی جتنی جلدی غیبت بندے کی نیکیوں کوجلا کر رکھ دیتی ہے۔
(اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۸۳)
میری نیکیاں کہاں گئیں؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غیبت کی تباہ کاریوں میں سے یہ بھی ہے کہ اِس کی وجہ سے نیکیاں ضائِع ہو جاتی ہیں جیسا کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب عَزَّوََجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا : بے شک قیامت کے روزانسان کے پاس اس کا کھلا ہو انامہ اعمال لایا جائے گا ،وہ کہے گا:میں نے جو فُلاں فُلاں نیکیاں کی تھیں وہ کہاں گئیں؟ کہا جائیگا:تُو نے جو غیبتیں کی تھیں اس وجہ سے مٹا دی گئی ہیں۔
 (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۳ ص ۳۳۲ حدیث ۳۰ )
Flag Counter