یعنی لوگوں کو کیا ہو گیاجو ایسی بات کہتے ہیں۔
(سُنَنِ ابوداو،دج۴ ص۳۲۹ حدیث۴۷۸۸)
کاش!ہمیں بھی اِصلاح کا ڈھنگ آ جائے، ہمارا تو اکثر حال یہ ہو تا ہے کہ اگر کسی کو سمجھانا بھی ہو تو بِلاضَرورتِ شرعی سب کے سامنے نام لیکر یا اُسی کی طرف دیکھ کر اِس طرح سمجھائیں گے کہ بے چارے کی پَولیں بھی کھول کر رکھ دیں گے اپنے ضمیر سے پوچھ لیجئے کہ یہ سمجھانا ہوا یا اگلے کو ذلیل (DEGRADE)کرنا ہوا ؟ اِس طرح سُدھار پیدا ہوگا یا مزید بگاڑبڑھے گا ؟ یاد رکھئے!اگر ہمارے رُعب سے سامنے والا چپ ہو گیا یا مان گیا تب بھی اُس کے دل میں ناگواری سی رہ جائے گی جو کہ بُغض و کینہ غیبت و تہمت وغیرہ کے دروازے کھول سکتی ہے ۔ حضرتِ سیِّدَتنا اُمِّ درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہاُِ فرماتی ہیں: ''جس کسی نے اپنے بھائی کو اِعلانیہ نصیحت کی اُس نے اُسے عیب لگایا اور جس نے چپکے سے کی تو اُسے زینت بخشی۔''
(شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص۱۱۲رقم۷۶۴۱)
البتّہ اگر پوشیدہ نصیحت نفع نہ دے تو پھر (موقع اور منصب کی مُناسَبَت سے )اِعلانیہ نصیحت کرے۔
(تَنبِیہُ الْغافِلین ص۴۹)
حاجی مشتاق سُنہر ی جالیوں کے رُو برو
غیبت کرنے سننے کی عادت نکالنے،نَمازوں اور سنّتوں کی عادت ڈالنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے، سنّتوں کی تربیت کیلئے مَدَنی قافِلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کیجئے ، اور سنّتوں بھرے اجتماع میں از ابتِدا تا انتہا مکمَّل شرکت کیجئے نہ جانے کس کے صدقے کس پرکب کرم ہو جائے! آپ کی ترغیب کیلئے ایک ایمان افروز مَدَنی بہار گوش گزار کی جاتی ہے چُنانچِہ بابُ الاسلام سندھ کی ایک مسجِد کیمُؤَذِّن صاحِب نے