| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
سکے گی وہ اوپر چڑھے گا، کسی کےٹخنوں تک ہو گا، کسی کےگھٹنوں تک، کسی کے کمر کمر، کسی کے سینے، کسی کے گلے تک، اور کافر کے تو منہ تک چڑھ کر مثل لگام کے جکڑ جائے گا، جس میں وہ ڈُبکیاں کھائے گا۔ اس گرمی کی حالت میں پیاس کی جو کیفیت ہوگی محتاجِ بیان نہیں، زبانیں سُوکھ کر کانٹا ہوجائیں گی، بعضوں کی زبانیں منہ سے باہَر نکل آئیں گی، دل اُبل کر گلے کو آجائیں گے، ہر مُبتَلا بَقَدرِ گناہ تکلیف میں مبتَلا کیا جائے گا، جس نے چاندی سونے کی زکوٰۃ نہ دی ہو گی اُس مال کو خوب گرم کرکے اُس کی کروٹ اور پیشانی اور پیٹھ پر داغ کریں گے ، جس نے جانوروں کی زکوٰۃ نہ دی ہوگی اس کے جانور قیامت کے دن خوب تیّار ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو وہاں لٹائیں گے اور وہ جانور اپنے سینگوں سے مارتے اور پاؤں سے روندتے اُس پر گزریں گے، جب سب اسی طرح گزر جائیں گے پھر اُدھر سے واپس آکر یوہیں اُس پر گزریں گے، اسی طرح کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ لوگوں کا حساب ختم ہو۔
وَعَلٰی ھٰذَا الْقِیاس۔
پھر باوُجُود ان مصیبتوں کے کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہ ہوگا، بھائی سے بھائی بھاگے گا، ماں باپ اولاد سے پیچھا چھڑائیں گے، بی بی بچے الگ جان چُرائیں گے ، ہر ایک اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار، کون کس کا مدد گار ہوگا...!حضرت آدم علیہ السلام کو حکم ہو گا، اے آدم!دوزخیوں کی جماعت الگ کر، عر ض کرینگے: کتنے میں سے کتنے؟ ارشاد ہوگا:ہر ہزار سے نو سو ننانوے، یہ وہ وقت ہو گا کہ بچے مارے غم کے بوڑھے ہوجائیں گے، حَمْل والی کا حَمْل ساقِط ہو جائے گا، لوگ ایسے دکھائی دیں گے کہ نشہ میں ہیں، حالانکہ نشہ میں نہ ہوں گے، ولیکن اللہ کا عذاب بَہُت سخت ہے ، غَرَض کس کس مصیبت کا بیان کیا جائے، ایک ہو، دو۲ ہوں، ۱۰۰سو ہوں، ۱۰۰۰ہزار ہوں تو کوئی بیان بھی کرے، ہزارہا مصائب اور وہ بھی ایسے شدید کہ
اَلاماں اَلاْماں...!
اور یہ سب تکلیفیں دو چار گھنٹے، دو چار دن، دو چار ماہ کی نہیں، بلکہ قیامت کا دن کہ پچاس ہزار برس کا ایک دن ہوگا۔
(بہارِ شریعت جلد اوّل ص ۱۳۳تا ۱۳۵)