طرح دل ذرا چھوٹا ہے، اُس کو یوں تو دین سے بَہُت مَحَبَّت ہے مگر میری طرح نَمازوں میں سُست ہے، فُلاں آدَمی اچّھا ہے مگر میری طرح ٹھنڈا ہے کہ اِستنجا خانے میں جاتا ہے تو بیٹھ جاتا ہے وغیرہ۔ اِسی طرح بعض اَوقات کسی کے عیب یا اُس کی خطا کا یوں تذکرہ کیا جاتا ہے:''بے چارے سے غصّے ہی غصّے میں فُلاں کو تھپڑ مار دینے کی جو بھول ہوئی ہے اِس پرمجھے سخت افسوس ہے !میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ رحم فرمائے ۔''اس طرح دُعا کے انداز میں اُس مسلمان کے غصّے میں آ کر ظلماً کسی کو تھپڑجڑ دینے کے عیب و خطا کا تذکرہ کر ڈالا ،اور غیبت کی مصیبت گلے پڑ ی ۔دعا والی مثال دینے کے بعد حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:اظہارِ افسو س اور دعا میں یہ شخص جھوٹ بولتا ہے، دعاء کرنی ہی تھی تو نَماز کے بعدچپکے سے بھی کی جاسکتی تھی اور اگرافسوس ہی تھا تو اُس کی خطا کا جو اَب اِس نے ڈنکا بجایا اس پر بھی افسوس ہونا چاہئے تھا!اسی طرح اگر کسی کے گناہ کا پتا لگ جاتا ہے توبعض نادان لوگ سب کے سامنے اِس طرح کہتے ہیں : ''بے چارہ (مَثَلاً فُلاں کے پیسے خُرد بُرد کرنے کی )بَہُت بڑی آفت میں پھنس گیا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی اور ہماری توبہ قبول فرمائے۔''یہ دعا بھی حقیقت میں دعا نہیں بلکہ غیبت کا ایک بدترین انداز ہے۔