کہہ کر نیز دُعائیہ جملے بول کر غیبت بلکہ ساتھ ہی ساتھ ریا کاری کے بھی مُرتکب ہو جاتے ہیں! مَثَلاً شخصیّات یا اربابِ اقتِدار کی طرف مَیلان رکھنے والے کسی آدَمی کا تذکرہ نکلنے پر صاف لفظوں میں برائی کرنے کے بجائے کچھ اِس طرح بولیں گے:
وزیروں، افسروں اورسرمایہ داروں سے اپنا کوئی واسِطہ نہیں ان دُنیا داروں کے آگے کون ذلیل ہو!(یوں اِن ڈائریکٹ اُس مخصوص آدمی کی جو بڑے لوگوں سے میل جُول رکھتا ہے غیبت ہو چکی)یا کسی کی بات چلنے پر اس کے بارے میں یوں کہیں گے :ہم بے حیائی سےاللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں ، الہٰی خیر فرما۔یوں ذِکر و دُعا کے انداز میں کسی مخصوص آدمی کے تذکرے کے موقع پر بِلااجازتِ شرعی اُس کے ''بے حیا ''ہونے کا اظہار کر کے اُس کی غیبت میں مبتَلا ہوئے اوربند لفظوں میں اپنی پارسائی(یعنی باحیا ہونے)کا اعلان کر کے ریاکاری کی تباہ کاری میں جا پڑنے کا خطر ہ مول لیا۔اِسی انداز میں دعا ہی دُعا کے اندر مخصوص آدمیوں کی دیگر خامیوں کے اِن ڈائریکٹ یعنی بند الفاظ میں تذکِرے کر ڈالتے اور ثواب کے بجائے عذاب کے حقدار بنتے ہیں ۔ اِسی طرح بعض اوقات کسی کی تعریف کر کے بھی غیبت کی عَمِیق (یعنی گہری )کھائی میں جا پڑتے ہیں مَثَلاً کہیں گے :''
فُلاں پکّا نَمازی پرہیزگار ہے، اس کے اَخلاق بھی عمدہ ہیں مگربے چارہ ایسی بات میں مبتَلا ہے جس میں ہم سبھی گِھرے ہوئے ہیں میرا مطلب ہے کہ اُس میں صبر کی کمی ہے!''دیکھا آپ نے !شیطان نے کس قَدر چالاکی کے ساتھ تعریف کروا کر اور قائل کی تواضُع اور انکساری خود اپنی ہی زبانی بُلوا کراگلے کو ''بے صبر''کہلوا کر غیبت کی آفت میں پھنسا دیا!اِس مثال کو آسان انداز میں یو ں سمجھئے جیسا کہ بعضوں کی عادت ہوتی ہے کہ یار وہ ہے تو شریف آدَمی مگر اُس کا میری