نکلے ہوئے میٹھے بول تا ثیر کا تیر بن کر تگودار کے دل میں پَیوَست ہو گئے کہ جب اس نے اپنے ''زہریلے کانٹے''کے جواب میں اس باعمل مبلِّغ کی طرف سے ''خوشبودار مَدَنی پھول''پایا توپانی پانی ہوگیااور نرمی سے بولا:آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میرے مہمان ہیں میرے ہی یہاں قِیام فرمایئے ۔چُنانچِہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اُس کے پاس مُقیم ہوگئے۔ تگودار روزانہ رات آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضِر ہوتا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت ہی شفقت کے ساتھ اسے نیکی کی دعوت پیش کرتے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اِنفِرادی کوشش نے تگودار کے دل میں مَدَنی انقِلاب بر پا کردیا! وُہی تگودار جو کل تک اسلام کو صَفْحَہ ہستی سے مٹانے کے درپے تھا آج اسلام کا شیدائی بن چکا تھا۔اسی باعمل مبلِّغ کے ہاتھوں تگودار اپنی پوری تاتاری قوم سمیت مسلمان ہوگیا۔ اس کا اسلامی نام احمد رکھا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک مبلِّغ کے میٹھے بول کی بَرَ کت سے وسط ایشیا کی خونخوار تاتاری سلطنت اسلامی حکومت سے بدل گئی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔