| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
ہیں :جب کوئی شخص اپنے اسلامی بھائی کا بھلائی کے ساتھ ذکر کرتا ہے تو اُس کے ساتھ رہنے والے فِرِشتے اُسے دُعادیتے ہیں کہ''تمہارے لئے بھی اس کی مثل ہو ''اور جب کوئی اپنے بھائی کو بُرائی (یعنی غیبت وغیرہ)سے یادکرتا ہے تو فِرِشتے کہتے ہیں : تُو نے اس کی پوشیدہ بات ظاہر کر دی ! ذرااپنی طرف دیکھ اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر کر کہ اُس نے تیرا پردہ رکھا ہوا ہے۔
(تَنبِیہُ الْغافِلین ص۸۸)
مجرم ہوں دل سے خوفِ قِیامت نکالدو پردہ گنہگار پہ دامن کا ڈالدو
میٹھے بول کی میٹھی حکایت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے! مسلمان کے بارے میں بھلائی والا میٹھا بول بولنے والے کو فرشتے دعائے خیر سے نوازتے ہیں اور غیبت وغیرہ کرنے والوں کو تنبیہ کرتے ہیں لہٰذا ہمیں ہمیشہ زَبان سے میٹھا بول ادا کرنے کی سعی کرنی چاہئے اور میٹھا بول تو پھر میٹھا بول ہے اِس کی مٹھاس وہ رنگ لاتی ہے کہ عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں !اِس ضِمن میں ایک حکایت سنئے اور جھومئے چُنانچِہ خُراسان کے ایک بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خواب میں حکم ہوا: ''تا تا ری قوم میں اسلام کی دعوت پیش کرو !''اُس وَقت ہلا کو کابیٹا تگودار بَر سرِ اِقتِدار تھا۔ وہ بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سفر کر کے تگودار کے پاس تشریف لے آئے۔ سنّتوں کے پیکر بارِیش مسلمان مبلِّغ کو دیکھ کراُسے مسخری سوجھی اور کہنے لگا:''میاں !یہ تو بتا ؤ تمہاری داڑھی کے با ل اچّھے یا میرے کُتّے کی دم ؟''بات اگرچِہ غصّہ دلانے والی تھی مگرچونکہ وہ ایک سمجھدار مبلِّغ تھے لہٰذا نہایت نرمی کے ساتھ فرمانے لگے: '' میں بھی اپنے خا لِق ومالِک اللہ عَزَّوَجَلَّ کاکتّا ہوں اگر جاں نثاری اور وفاداری سے اسے خوش کرنے میں کامیاب ہوجاؤں تو میں اچّھا ورنہ آپ کے کُتّے کی دُم ہی مجھ سے اچّھی ''چُونکہ وہ ایک باعمل مُبلِّغ تھے غیبت وچُغلی، عیب جوئی اور بد کلامی نیز فُضول گوئی وغیرہ سے دُور رہتے ہوئے اپنی زَبان ذِکرُ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ہمیشہ تَر رکھتے تھے لہٰذا ان کی زَبان سے