میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غیبت صِرف زبان ہی سے نہیں اور طریقوں سے بھی کی جا سکتی ہے مثَلاً (1) اشارے سے(2)لکھ کر(3)مُسکرا کر(مَثَلاًآپ کے سامنے کسی کی خوبی بیان ہوئی اور آ پ نے طنزیہ انداز میں مسکرا دیا جس سے ظاہِر ہوتا ہو کہ''تم بھلے تعریف کئے جاؤ، میں اِس کو خوب جانتا ہوں!'')(4) دل کے اند ر غیبت کرنا یعنی بد گُمانی کو دل میں جَما لینا ۔ مَثَلاً بِغیر دیکھے بِلا دلیل یا بِغیر کسی واضِح قرینے کے ذِہن بنا لینا کہ'' فُلاں میں وفا نہیں ہے۔''یا فُلاں نے ہی میری چیز چُرائی ہے ''یا ''فُلاں نے یوں ہی گپ لگا دیا ہے''وغیرہ(5)اَلْغَرَض ہاتھ ،پاؤں،سر، ناک، ہونٹ ، زَبان ، آنکھ ، اَبرو ، پیشانی پر بل ڈال کریا لکھ کر، فون پر SMS کر کے ، انٹرنیٹ پر چیٹنگ کے ذَرِیعے ، برقی ڈاک (یعنیE.MAIL)سے یا کسی بھی انداز سے کسی کے اندر موجود برائی یا خامی دوسرے کو بتائی جائے وہ غیبت میں داخِل ہے۔
مؤمِنوں پر تین احسان کرو!
حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذ رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:تم سے مؤمِنوں کواگر تین فوائد حاصِل ہو ں تو تم مُحسِنِین (یعنی احسان کرنے والوں)میں شمارکئے جاؤ گے(۱)اگر انہیں نَفع نہیں پہنچا سکتے تو نقصان بھی نہ پہنچاؤ(۲)انہیں خوش نہیں کر سکتے تو رنجیدہ بھی نہ کرو(۳)ان کی تعریف نہیں کر سکتے تو بُرائی بھی مت کرو۔
(تَنبِیہُ الْغافِلین ص۸۸)
مسلمان کی بھلائی بیان کرنے والوں کیلئے فِرِشتوں کی دعاء
مشہورتابِعی بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا مُجاہِدعلیہ رَحمَۃُ الواحد (جن کا ۱۰۳ ھ میں مکّہ معظّمہ
زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً
میں سجدے کی حالت میں وصال ہوا)فرماتے