Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
149 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پرروزِ جُمُعہ دو سو بار دُرُود پاک پڑھا اُس کے دو سو سال کے گناہ مُعاف ہوں
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
گستاخ رسول کا انجام
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر غیبت کی کثرت کے سبب ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ ناراض ہوا اورحُضور تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم روٹھ گئے اور ایمان برباد ہو گیا اور کوئی بدنصیب
مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
کافِر ہو کر مرا تو خدا کی قسم کہیں کا نہ رہے گا۔ کفر پر مرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنَّم میں رہے گا ، کافِروں کے انجام کے بارے میں میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ارشاد پڑھئے اور توبہ توبہ کیجئے اور اپنے ایمان کی حفاظت کیلئے خوب کڑھئے چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اداراے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 502 صَفحات پر مشتمل کتاب ''ملفوظات اعلیٰ حضرت ''(مکمَّل ۔ مُخَرَّجہ)صَفْحَہ 147 پر ہے:ایک مرتبہ عاص (جو کہ بَہُت بڑا گستاخِ رسول کافر تھا وہ)سفر کوگیا ۔ تکان (یعنی تھکن)کے با عث ایک درخت سے تکیہ(یعنی ٹیک)لگاکر بیٹھ گیا ۔ جبریلِ امین (علیہ السلام)بحکمِ ربُّ العٰلمین (عَزَّوَجَلَّ)تشریف لائے اور اُس کا سر پکڑ کر درخت سے ٹکرانا شرو ع کیا۔ وہ چلاتا تھا کہ ارے کون میرے سر کو درخت سے ٹکرا رہا ہے؟ اُس کے ساتھی کہتے تھے کہ ہمیں کوئی نظر نہیں آتا ۔ یہاں تک کہ جہنَّم واصل ہوا(یعنی مرکرجہنَّم پہنچا)۔ قیامت کے دن اِس جہنَّمی کی سب سے جدا حالت ہوگی :یہ اپنے آپ کو
مَعَاذَ اللہ ''عزیز و کریم''
کہا کرتا یعنی عزّت والا وکر م والا ۔دار وغہ دوزخ (یعنی دوزخ کے نگران فرشتے)کو حکم ہوگا کہ اس کے سرپرگُرز مارو !جس کے لگتے ہی ایک بڑا خلا (بَہُت بڑا گڑھا)سر میں ہوجائے گا اور جس کی وُسعت اتنی نہ ہوگی جتنی تم خیال کرتے ہو بلکہ جس کی ایک داڑھ کو ہِ اُحُد(یعنی اُحُد پہاڑ ) کے برابر ہوگی اس کے سر پھٹنے سے جو خلا (گڑھا)ہو گا وہ کس قدر وسیع ہوگا!غرض اس خَلا(گڑھے)میں جہنَّم کا کھولتا ہوا پانی بھرا جائے گا اور اس سے کہا جائیگا:
ذُقْ ۚۙ اِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْکَرِیۡمُ ﴿۴۹﴾
 (پ۲۵الدخان۴۹)
ترجَمہ کنزالایمان:چکھ تُو تو عزّت وکرم والا ہے۔
Flag Counter