Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
146 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) مجھ پر دُرُود شریف پڑھو اللہ تعالی تم پر رحمت بھیجے گا۔
اِس کے علم ِ دین کی وجہ سے بُغض رکھنا کفر ہے یعنی اس وجہ سے کہ وہ عالمِ دین ہے۔(9)جو کہے:''فسادکرنا عالم بننے سے بہتر ہے ''ایسے شخص پر حکمِ کفر ہے ۔
 (عا لَمگیری ج۲ ص ۲۷۱)
(10)یاد رہے !صِرف عُلَمائے اہلسنّت ہی کی تعظیم کی جائے گی۔ رہے بد مذہب عُلماء ،تو ان کے سائے سے بھی بھاگے کہ ان کی تعظیم حرام ، اُن کابیان سننا ان کی کُتُب کامُطالَعہ کرنا اور ان کی صُحبت اختیار کرنا حرام اور ایمان کیلئے زہرِہَلاہِل ہے۔
کاش میں درخت ہوتا!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عالمِ دین کی شانِ عظمت نشان میں بے ادَبی سے بچنا بَہُت ضَروری ہے ۔ خُدا نخواستہ کوئی ایسی بھول ہو گئی جس سے ایمان سے ہاتھ دھونا پڑ گیا تو خدا کی قسم !بَہُت رُسوائی ہوگی کہ بروزِ قِیامت کافِروں کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنَّم میں جھونک دیا جائیگا جہاں انہیں ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں رہنا پڑیگا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں زَبان کی لغزِشوں سے بھی بچائے اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ اٰمین۔ ہمارے صَحابہ کرام عَلَیْھِمُ  الرِّضْوان قبرو آخِرت کے مُعامَلے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بَہُت ڈرتے تھے ، غَلَبہ خوف کے وَقت ان حضرات کی زَبان سے بَسا اوقات اس طرح کے کلمات ادا ہوتے تھے:کاش!ہمیں دنیامیں بطورِ انسان نہ بھیجا جاتا کہ انسان بن کر دنیا میں آنے کے باعِث اب خاتمہ بِالاِیمان، قبرو قیامت کے امتحان وغیرہ کے کٹھن مراحِل درپیش ہیں۔ ایک بارحضرتِ سیِّدُناابودَرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں ڈوب کر فرمایا :اگر تم وہ جان لو جو موت کے بعد ہونا ہے تو تم پسندیدہ کھانا پینا چھوڑ دو ،سایہ دارگھروں میں نہ رہو بلکہ ویرانوں کا رُخ کر جاؤ اور تمام عمر آہ و زاری میں بسر کر دو اس کے بعد فرمانے لگے:کاش!میں درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔
 (اَلزُّہْد لِلامام اَحمد بن حنبل ص۱۶۲ رقم ۷۴۰)
میں بجائے  انساں کے  کوئی  پودا ہوتا یا

نَخل ۱؎ بن کے طیبہ کے باغ میں کھڑا ہوتا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(1)كھجور كا درخت,عام درخْت
Flag Counter