| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
نہیں بَولتے۔البتّہ بعض اوقات بے باکوں کی زَبانوں سے مولوا،مُلَّڑ وغیرہ الفاظ سننا(سگِ مدینہ عفی عنہ کو)یاد پڑتاہے۔ بَہَرحال عالمِ دین کی بَسبَبِ علمِ دین توہین کرنا یا علوی صاحِبان یا ساداتِ کرام کی شرافتِ حَسَب نَسَب کے سبب کسی قسم کا توہین آمیز لفظ بولنا کُفر ہے۔
''مولوی بنو گے تو بھوکے مرو گے''کہنا
سُوال:
'' دُنیوی تعلیم حاصِل کرو گے تو عیش کرو گے،علمِ دین سیکھ کر مولوی بنو گے تو بھوکے مرو گے ''یہ کہنا کیسا؟
جواب:
اِس جملے میں علم ِدین کی توہین کا پہلو نُمایاں ہے اس لئے کفر ہے ۔قائل پر توبہ و تجدیدِ ایمان لازِم ہے اور اگر علم وعُلماء کی توہین ہی مقصود تھی تو قَطعی کفر ہے قائل کافر ومُرتَد ہوگیا اور اُس کا نکاح بھی ٹوٹا اور پچھلے نیک اعمال بھی ضائِع ہوئے۔
توہینِ عُلَما کے مُتَعلِّق10پَیرے
(1)جتنے مولوی ہیں سب بدمَعاش ہیں کہنا کفر ہے جبکہ بَسبَب علمِ دین، علمائے کرام کی تحقیر کی نیّت سے کہا ہو۔
(ماخُوذاَزفتاوٰی امجدیہ ج ۴ ص ۴۵۴)
(2)یہ کہنا:''عالم لوگوں نے دیس خراب کر دیا۔''کلِمہ کُفر ہے
(ماخُوذاَزفتاوٰی رضویہ ج۱۴ ص ۶۰۵)
(3)یہ کہنا کُفر ہے کہ''مولویوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے''(4)جو کہے :''عِلْم دین ،کوکیا کروں گا !جیب میں روپے ہونے چاہئیں۔ ''کہنے والے پر حُکمِ کفر ہے(5)کسی نے عالِم سے کہا:''جا اور علْمِ دین کو کسی برتن میں سنبھال کر رکھ۔''یہ کُفْر ہے۔
(عا لَمگیری ج ۲ ص۲۷۱)
(6)جس نے کہا :''عُلَماء جو بتاتے ہیں اسے کون کرسکتا ہے!''یہ قَول کفر ہے۔ کیونکہ اِس کلام سے لازِم آتا ہے کہ شَریعت میں ایسے اَحکام ہیں جو طاقت سے باہَر ہیں یاعُلَماء نے انبِیائے کرام
عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
پر جھوٹ باندھا ہے معاذَ اﷲعَزَّوَجَلَّ!
(مِنَحُ الرَّوض ص۴۷۱)
(7)یہ کہنا :'' ثَرِید کا پِیالہ عِلمِ دین سے بہتر ہے۔'' کلِمہ کفر ہے۔
(ایضاًص ۴۷۲)
(8)عالمِ دین سے