یہ عُلَماء کی توہین کی وجہ سے کلِمہ کُفر ہے ۔کیونکہفُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام فرماتے ہیں:
اَ لْاِسْتِخْفَافُ بِا لْاَشْرَافِ وَالْعُلَمَاءِ کُفْرٌ۔
یعنی اَشراف (ساداتِ کرام)اور عُلَماء کی تَحقیر(انہیں گھٹیا جاننا)کُفر ہے۔
(مَجْمَعُ الْاَنْہُر ج۲ص۵۰۹)
سُنّی عالمِ دین کی طرز پر قراٰن وسنّت کے مطابِق کئے جانے والے کسی مبلّغ کے بیان کو حَقارتاً ''مولویوں والا انداز''کہنا کیسا؟
کُفْر ہے۔ کیوں کہ اِس میں عُلَمائے حقّ کی توہین ہے۔
''عالِم سارے ظالِم''کہنے کا حکمِ شَرعی
''عالم سارے ظالم''یہ مَقُولہ کیساہے؟
مُطلَقًاعُلَماء حقّہ کے بارے میں ایسا جملہ کہنا کُفر ہے۔
عالِم دین کو حَقارت سے مُلّا کہنا
جو عُلمائے کرام کو تحقیر کی نیّت سے ''مُلّا مُلّا''یا ''مُلّا لوگ''کہے اُس کیلئے کیا حکم ہے؟
اگربَسبَبِ علمِ دین علمائے کرام کی تحقیر (یعنی حقارت)کی نیّت سے کہا تو کلِمہ کُفْر ہے ۔چُنانچِہ ملّا علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری فرماتے ہیں :جس نے (توہین کی نیّت سے )عالم کو عُوَ یلِم یا عَلَوی (یعنی مولیٰ علی
كَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم
کی اولاد)کو عُلَیْوی کہا اُس نے کفر کیا۔
(مِنَحُ الرَّوض لِلقاری ص۴۷۲)
اُردو خواں''عُوَ یلِم''یا '' عُلَیوی''