| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:اور قراٰن شریف انھیں (یعنی عُلمائے حق کو)مُطلَقاً وارِث بتا رہا ہے ، حتّٰی کہ ان(میں) کے بے عمل (عالم)کو بھی یعنی جبکہ عقائد ِحقّ پر مستقیم (یعنی صحیح العقیدہ سُنّی )اورہِدایت کی طرف داعی(بلانے والا)ہو کہ گمراہ(عالم)اور گمراہی کی طرف بلانے والا (مولوی)وارِثِ نبی نہیں نائبِ ابلیس ہے۔
وَالعِیاذُ بِاللہِ تعالٰی ۔
ہاں، رب عَزَّوَجَلَّ نے تمام عُلماءِ شریعت کو کہاں وارِث فرمایا ہے؟ یہاں تک کہ ان کے بے عمل کو بھی! ہاں، وہ ہم سے پُوچھئے، مولیٰ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصْطَفَیۡنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ ۚ وَ مِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَ مِنْھُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیۡرٰتِ بِاِذْنِ اللہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیۡرُ ﴿ؕ۳۲﴾
(پ22 فاطر 32)
ترجَمہ کنزالایمان:پھر ہم نے کتاب کا وارِث کیا اپنے چُنے ہوئے بندوں کو تو ان میں کوئی اپنی جان پرظُلم کرتا ہے اور ان میں کوئی مِیانہ چا ل پر ہے اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا یہی بڑا فضل ہے۔
مذکورہ بالا آیتِ کریمہ فتاوٰی رضویہ جلد21 صَفْحَہ530 پرنَقل کرنے کے بعدمیرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن مزیدفرماتے ہیں:دیکھو بے عمل (عُلماء جو)کہ گناہوں سے اپنی جان پرظُلم کر رہے ہیں انھیں بھی کتاب کا وارِث بتایا اورنِرا(یعنی فَقَط)وارِث ہی نہیں بلکہ اپنے چُنے ہوئے بندوں میں گِنا۔ اَحادِیث میں آیا، رسولُ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِس آیت کی تفسیر میں فرمایا:ہم میں کا جو سَبقت(برتری)لے گیا وہ توسَبقت لے ہی گیا اور جومُتَوَسِّط(یعنی درمیانہ)حال کا ہوا وہ بھی نَجات والا ہے اور جو اپنی جان پر ظالِم(یعنی گنہگار)ہے اس کی بھی مغفِرت ہے۔(تفسیر دُرّمنثور ج۷ ص۲۵)
عالمِ شریعت اگر اپنے علم پر عامِل بھی ہو (جب تو وہ مِثلِ )چاند ہے (جو)کہ آپ (خودبھی)ٹھنڈا اور