Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
141 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
عالم کی توہین کب کُفْر ہے اور کب نہیں
عام آدمی اور عالمِ دین کی غیبت میں بڑا فرق ہے،عالم کی غیبت میں اکثر اُس کی توہین کا پہلو بھی ہوتا ہے جو کہ کافی تشویشناک ہے۔عالم کی تَوہین کی تین صورَتیں اور ان کے بارے میں حکمِ شَرْعی بیان کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 21صَفْحَہ129 پرفرماتے ہیں :(1)اگر عا لمِ (دین)کو اِس لئے بُرا کہتا ہے کہ وہ ''عالم ''ہے جب تو صَریح کافِر ہے اور(2)اگر بوجہِ عِلم اُس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کِسی دُنیوی خُصُومت (یعنی دشمنی)کے باعِث بُرا کہتا ہے،گالی دیتا (ہے اور)تَحقیرکرتا ہے تو سخت فاسِق فاجِر ہے اور(3)اگر بے سبب(یعنی بِلاوجہ )رنج (بُغض )رکھتا ہے تو
مَرِیْضُ الْقَلْبِ وَ خَبِیْثُ الْباطِن
 (یعنی دل کا مریض اور ناپاک باطن والا )ہے اور اُس (یعنی عالم سے خواہ مخواہ بُغض رکھنے والے)کے کُفْرکا اندیشہ ہے ۔ ''خُلاصہ ''میں ہے :
مَنْ اَبْغَضَ عَالِماً مِّنْ غَیْرِ سَبَبٍ ظَاھِرٍ خِیْفَ عَلَیْہِ الْکُفْر
یعنی جو بِلا کسی ظاہِری وجہ کے عالم ِدین سے بُغض رکھے اُس پر کُفر کا خوف ہے۔
             (خُلاصَۃُ الفتاوٰی ج۴ص۳۸۸)
علماء کی توہین کے بارے میں چند سُوال جواب  پیش كیے جاتے ہیں:
عالِمِ بے عمل کی توہین
سُوال:
کیا عالِم ِبے عمل کی توہین بھی کفر ہے؟
جواب:
بسَبَبِ علمِ دین عالمِ بے عمل کی توہین کرنا بھی کُفر ہے۔ عالمِ بے عمل بھی علمِ دین کی وجہ سے جاہِل عبادت گزار سے بَدَرَجَہا افضل و بہتر ہے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا
Flag Counter