(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل بدگمانی کا مرض عام ہے ۔ مسلمان کے بارے میں اچھا گمان کر کے ثواب کمانا چاہئے چُنانچِہ فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم :
حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَۃِ
یعنی حسنِ ظن عمدہ عبادت سے ہے ۔
(سُنَنِ ابوداو،د ج۴ ص۳۸۸ حدیث ۴۹۹۳)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیثِ پاک کے مختلف مَطالِب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :یعنی مسلمانوں سے اچھا گُمان کرنا ، ان پر بدگُمانی نہ کرنا یہ بھی اچھی عبادات میں سے ایک عبادت ہے ۔
(مراٰۃ المناجیح ج۶ ص ۶۲۱)
عالم کی غیبت کرنے والا رحمت سے مایوس
افسوس!!آج کل مَعاذَاللہ عُلَماء کی بکثرت غیبت کی جاتی ہے۔لہٰذا شیطان کسی عالِم دین کی غیبت پر اُبھار ے تو حضرتِ سیِّدُناابو حَفص کبیرعلیہ رحمۃ اﷲالقدیر کے اِس ارشاد کو یاد کر کے خود کو ڈرایئے:جس نے کسی فَقیہ(عالِم)کی غیبت کی تو قِیامت کے روز اُس کے چِہرے پر لکھا ہو گا:''یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت سے مایوس ہے۔''
غیبت علماء کی ہو یا عوام کی ، غیبت پھر غیبت ہی ہے ، خدا کی قسم !اِس کاعذاب نہ سہا جاسکے گا چُنانچِہ ایک بار مدینے کے تاجدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیِّدُنا مُعاذ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(1)صَحیح بُخاری ج 4ص 117 حدیث 6066