Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
138 - 504
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رَحمتیں بھیجتا ہے۔
950سال میں صرف 80آدمی ایمان لائے
مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :اِس فرمان عالی کے ایک معنی یہ ہیں کہ جتنے زیادہ لوگوں نے مجھ پر ایمان قبول کیا اتنے لوگ کسی اور نبی پر ایمان نہیں لائے یہ بالکل ظاہر ہے کیونکہ دوسرے نبی کسی خاص قوم کے نبی ہوتے تھے حضورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سارے جہان کے نبی ہیں نیز اور نبیوں کا زمانہ نُبُوَّت محدود تھا ،حُضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نُبُوَّت تا قِیامت ہے۔مزید لکھتے ہیں :حضرت سیِّدُنا نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو (950)سال تبلیغ فرمائی مگر صرف اسی(80)آدمی ایمان لائے آٹھ(8)آدمی اپنے گھر کے بہتّر(72)آدمی دوسرے، حُضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تیئس (23)سال تبلیغ فرمائی، دیکھ لو آج تک کیا حال ہے !
                                    (مراٰۃ ج ۸ ص ۶ ، ۷)
غیبت گناہِ کبیرہ ہے
حضرت سیِّدُنا امام احمدبن حَجَر مَکِّی شَافِعِی علیہ ر حمۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں:صحیح احادیثِ مبارَکہ میں ہے کہ (۱)غیبت سُود سے بڑھ کر ہے (۲)اگر اسے (یعنی غیبت کو)سمندر کے پانی میں ڈال دیاجائے تو اسے بھی بدبودار کر دے (۳)(غیبت کرنے والے)دوزخ میں مُردار کھا رہے تھے (۴)ان (غیبت کرنے والوں)کی فَضا بدبودار تھی (۵)انہیں(یعنی غیبت کرنے والوں کو)قبروں میں عذاب دیا جا رہاتھا۔''ان میں سے بعض احادیثِ مبارَکہ ہی اس کے کبیرہ ہونے کے لئے کافی ہیں،پس جب یہ ساری جمع ہو جائیں تو پھر غیبت کیونکر کبیرہ گناہ نہ کہلائے گی؟
 (اَلزَّواجِرُ عَنِ اقْتِرافِ الْکبائِر ج۲ ص ۲۸)
عالم کے بارے میں احتیاط کی حکایت
حضرتِ شیخ افضلُ الدّین علیہ رَحْمَۃُ اللہِ المُبین سے جب کسی عالمِ دین کے مقام کے بارے میں پوچھا جاتا تو (غیبت میں جاپڑنے کے خوف سے )فرماتے:میرے علاوہ کسی اور سے پوچھو میں تو لوگوں کو کمال اور بہتری ہی کی نگاہ سے دیکھتا(اور ہر
Flag Counter