مقبولیَّت کا مدارقِلّت و کثرت پر نہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے !فیضانِ سنّت کے درس کی کتنی زبردست بَرَکت ہےوہ اسلامی بھائی کیسے جذبے والے تھے کہ کوئی نہ ملا تو تنہا چوک درس شروع کر دیا !اس میں سبھی کیلئے درس کے مَدَنی پھول ہیں اُن کا اکیلے درس دینا ایک مسلمان کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہونے کا سبب بن گیا۔ یہ بھی اندازہ لگایئے کہ تنہا درس دیتے ہوئے دیکھ کر جب ایسے شخص کو رحم آگیا جو کہ ان چیزوں سے دُور بھاگتا تھا تو اللہ تبارَک وَ تعالیٰ تنہا یا کم تعداد میں درس دینے والوں سے کتنی مَحَبَّت کرتا اور کس قَدَر اُن پر رَحم و کرم فرماتا ہوگا۔ یاد رکھئے! قلت و کثرت پر مقبولیت کا دارومدار نہیں۔ جو اسلامی بھائی بھیڑ بھاڑ کے بِغیر اور ایکو ساؤنڈ نہ ہو تو بیان یا نعت شریف پڑھنے کیلئے تیّار نہیں ہوتے ان کی ترغیب کیلئے عرض ہے کہ بارگاہِ خداوندی میں صِرف اِخلاص دیکھا جاتا ہے۔ حاضِرین اور چاہنے والوں کی کثرت ہو مگر خلوص نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ یقینا جتنے بھی انبیاء ہوئے سب کے سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول ترین بندے ہیں اور ہر ایک نے 100 فیصد ی اپنی ذِمّے داری نبھائی مگر بعض انبیاءِ کرام
عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
پرصِر ف ایک ہی آدمی ایمان لایا چُنانچِہ
رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :میں جنت کے بارے میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا ،اورکسی نبی کی تصدیق اتنی نہ کی گئی جتنی میری تصدیق کی گئی، بعض انبیاءِ کرام
(عَلَیْھِمُ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام )
وہ ہیں جن کی تصدیق اُن کی امّت میں سے صرف ایک شخص نے کی ہے ۔
(صَحیح مُسلِم ص۱۲۸ حدیث۳۳۲)