Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
134 - 504
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس کے پاس میرا ذکر ہو اور اُس نے مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھا اُس نے جفاء کی۔
اللہ  کی  رحمت سے تو  جنَّت ہی ملیگی

اے کاش! مَحَلّے میں جگہ اُن کے ملی ہو
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تُوبُوا اِلَی اللہ!          اَسْتَغْفِرُاللہ

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
غیبت کی بدبُو
غیبت کرنے سے ایک مخصوص بدبُو نکلتی ہے ۔ پہلے جب کوئی غیبت کرتا تھا تو بدبو کے سبب سب کومعلوم ہو جاتاتھا کہ غیبت ہو رہی ہے!مگر اب غیبت کی اِس قَدَر کثرت ہو گئی ہے کہ ہر طرف اس کی بدبُو کے بھبکے اُٹھ رہے ہیں مگر ہمیں بدبو نہیں آتی کیونکہ ہماری ناک اس کی بدبُو سے اَٹ گئی ہے ۔ اس کو یوں سمجھئے کہ جب گٹر صاف کی جارہی ہوتی ہے تو عام شخص اُس کی بدبُو کے باعث وہاں کھڑا نہیں رَہ سکتا مگر بھنگی کو کچھ بھی پتا نہیں چلتا اس لئے کہ اس کی ناک اس گندگی کی بدبو سے اَٹ چکی ہوتی ہے۔ چُنانچِہ فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ جلد اوّل صَفْحَہ 720پر ہے:جھوٹ اور غیبت مَعنوی نَجاست(یعنی باطِنی گندگیاں )ہیں وَ لہٰذا جھوٹے کے منہ سے ایسی بدبو نکلتی ہے کہ حفاظت کے فرِشتے اُس وقت اُس کے پاس سے دُور ہٹ جاتے ہیں جیسا کہ حدیث میں وارِد ہوا ہے اور اسی طرح ایک بدبو کی نسبت رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم نے خبر دی کہ یہ اُن کے منہ کی سَڑاند(یعنی بدبُو )ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں اور ہمیں جو جھوٹ یا غیبت کی بدبُو محسوس نہیں ہوتی اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اُس سے مالُوف (یعنی اس کے عادی )ہو گئے ہماری ناکیں اُس سے بھری ہوئی ہیں جیسے چمڑا پکانے والوں کے مَحَلّے میں جو رہتاہے اُسے اُس کی بد بُو سے ایذا نہیں ہوتی دوسرا آئے تو اُس سے ناک نہ رکھی جائے ۔مسلمان اِس نفیس فائدے (یعنی عمدہ نتیجے )
Flag Counter