ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی سے کہا : مجھے خبر ملی ہے آپ میری غیبت کرتے ہیں !فرمایا:میرے نزدیک تمہاری
اتنی زیادہ بھی نہیں کہ میں اپنی نیکیاں تمہارے حوالے کر دوں۔
(اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ص۱۸۳)
غیبت گویا نیکیاں پھینکنے کی مشین ہے
حضرتِ سیِّدُنافضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: غیبت کرنے والے کی مثال اُس شخص جیسی ہے جومِنجَنیق(یعنی پتّھر پھیکنے کی ہاتھ سے چلائی جانے والی پُرانے دور کی مشین)کے ذَرِیعے اپنی نیکیوں کو مشرِق و مغرِب ہر طرف پھینکتا ہے۔
(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۳)
حضرتِ سیِّدُناامام بخاری علیہ رَحْمَۃُ اللہِ الباری کا ارشاد ہے کہ حضرتِ سیِّدُناشیخ ابو عاصِم علیہ رَحمَۃُ اللہِ الحاکم فرماتے ہیں:مجھے جب سے عقل(یعنی سمجھ)آئی ہے کہ غیبت حرام ہے میں نے کبھی بھی غیبت نہیں کی۔
(تَھْذِیبُ الْاسماء وَاللُّغات لِلنَّوَوی ص۸۳۶)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(1)دُكھ ۔عذاب۔ (2)غفلت كاگڑھا۔ (3)ذكر كرنے والا (4) ذكركیاگیا۔