| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پرروزِ جُمُعہ دو سو بار دُرُود پاک پڑھا اُس کے دو سو سال کے گناہ مُعاف ہوں
کہتاہے:آئیے !آپ بھی کھا لیجئے ، عام طورپرجواب ملتا ہے : ''بِسم اللہ''یا اس طرح کہتے ہیں:''بِسم اللہ کیجئے ! ''مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِشریعت حصّہ 16 صَفْحَہ22 پر ہے کہ اِس موقع پراِس طرح بِسم اللہ کہنے کوعُلَماء نے بَہُت سخت ممنوع قرار دیا ہے ۔ (بہارشریعت)ہاں یہ کہہ سکتے ہیں:بِسم اللہ پڑھ کر کھا لیجئے۔بلکہ ایسے موقع پردُعائیہ الفاظ کہنا بہتر ہے،مَثَلًا
باَرَکَ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اور تمہیں بَرَکت دے ۔ یا اپنی مادری زَبان میں کہہ دیجئے:اللہ عَزَّوَجَلَّ بَرَکت دے ۔
بسم اللہ کہنا کب کفر ہے
حرام وناجائزکام سے قبل بِسم اللہ شریف ہرگز،ہرگز،ہرگزنہ پڑھی جائے، حرامِ قَطعی کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنا کفر ہے چُنانچِہ''فتاوٰی عالمگیری ''میں ہے:شراب پیتے وَقْت،زِناکرتے وَقْت یا جُواکھیلتے وَقْت بسم اللہ کہناکُفْر ہے۔
(فتاوٰی عالَمگیری ج ۲ ص ۳ ۲۷)
کب ذِکرُ اللہ عَزَّوَجَلَّ کرنا گناہ ہے!
یاد رکھئے!زَبان سے ذکر و دُرُود باعثِ اجر و ثواب بھی ہے اور بعض صورَتوں میں ممنوع بھی مَثَلاً''مکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ ''بہارِ شریعت''جلد اوّل صَفْحَہ533 پرہے: گاہک کو سودا دکھاتے وَقت تاجِر کا اِس غَرَ ض سے دُرُود شریف پڑھنا یا سبحٰن اللہ کہنا کہ اس چیز کی عُمدَگی خریدار پر ظاہرکرے ناجائز ہے۔ یونہی کسی بڑے کو دیکھ کر اس نیّت سے دُرُود شریف پڑھنا کہ لوگو ں کو اس کے آنے کی خبر ہوجائے تا کہ اس کی تعظیم کو اٹھیں او رجگہ چھوڑ دیں ناجائز ہے۔
(رَدُّالْمُحتار ج۲ ص۲۸۱)
استقبال کیلئے ''اللہ اللہ''کی صدائیں بلند کرنا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ جُزیئے کے پیشِ نظر میں(سگِ مدینہ عفی عنہ )اکثر اسلامی بھائیوں کو سمجھاتا رہتا ہوں کہ میری آمد پر ''اللہ اللہ''کی صدائیں بلند نہ کیا کریں کیونکہ بظاہر یہاں ذکر اللہ نہیں استِقبال مقصود ہوتا ہے ۔