میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حدیثِ پاک میں چارکلمے ارشاد فرمائے گئے ہیں:
(1) سُبْحٰنَ اللہ(2) اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ (3)لا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ (4) اَللہُ اَکْبَر
یہ چاروں کلمات پڑھیں تو جنّت میں چار درخت لگائے جائیں اور کم پڑھیں تو کم۔ مَثَلاً اگرسُبْحٰنَ اللہ کہا تو ایک درخت۔ ان کلمات کو پڑھنے کیلئے زَبان چلاتے جایئے اور جنّت میں خوب خوب درخت لگواتے جایئے ۔
عُمر راضائِع مَکُن در گفتگو ذِکرِ اُوکُن ذکرِ اُوکُن ذکرِ اُو
(یعنی فالتو باتوں میں عمرِ عزیز ضائِع مت کر،ذِکر اللہ کر،ذِکر اللہ کر،ذِکر اللہ کر)
اِسی طرح زَبان کا ایک اچّھااستِعمال یہ بھی ہے کہ دُرُود و سلام پڑھتے رہئے اور گناہ بخشواتے رہئے جیسا کہ دُرِّمختار میں ہے: جو سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ایک بار دُرُود بھیجے اور وہ قَبول ہوجائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے اَسی (80)بر س کے گناہ مٹا دے گا۔
بسم اللہ کیجئے کہنا ممنوع ہے
بعض لوگ زَبان کا غلط استِعمال کرتے ہوئے اِس طرح کہہ دیتے ہیں :''بِسم اللہ کیجئے !'' ''آؤ جی بِسم اللہ!'' ''میں نیبسم اللہ کرڈالی''،تاجِرحضرات جودن میں پہلا سودا بیچتے ہیں اُس کو عُمُوماً ''بَونی''کہا جاتا ہے مگربعض لوگ اس کوبھی''بِسم اللہ''کہتے ہیں ، مَثَلاً ''میری توآج ابھی تک بِسم اللہ ہی نہیں ہوئی!''جن جملوں کی مثالیں پیش کی گئیں یہ سب غَلَط انداز ہیں ۔اسی طرح کھاناکھاتے وقت اگر کوئی آجاتاہے تواکثر کھانے والااُس سے