تائب کوشرمندہ کیا تو خود گناہ میں پھنس گیا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہواجب کوئی مسلمان کسی گناہ سے توبہ کر لے تو اب اُس گناہ کے بارے میں اُس کو شرمندہ نہیں کرنا چاہئے اِس ضمن میں حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدا لوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی نقل کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذ رازی علیہ رَحمَۃُ اللہِ الھادی فرماتے ہیں عقلمند کو چاہئے کہ کسی کو اس کے اُس گناہ کی وجہ سے عار(یعنی شرم )نہ دلائے(جس سے وہ توبہ کر چکا ہو)کیونکہ میں نے ایک بارکسی کو(توبہ کے باوُجُود)اُس کے گناہ کے سبب عار دلائی (یعنی شرمندہ کیا)تو بیس سال کے بعد میں خود اُس میں مبتَلاہو گیا۔
(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بے جا بک بک کی عادت آدمی کو نہ بولنے کا بُلواتی اور ناکوں چنے چَبواتی ہے، خوب غیبتیں کرواتی اور چغلیاں کِھلواتی ہے، آدَمی چپ رہے اِسی میں عافیت ہے اور بولنا ہے تو اچّھا بولے،ذِکر اللہ کرے دیکھئے!ہمارے میٹھے میٹھے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زَبان کاکتنا پیارا استعمال بتا یا آپ بھی سنئے اور جھومئے چُنانچِہ ''سُنَنِ ابنِ ماجہ ''کی روایت میں ہے:(ایک بار)مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کہیں تشریف لے جارہے تھے حضرت سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومُلاحَظہ فرمایا کہ ایک پودا لگا رہے ہیں۔ اِستِفسار فرمایا: کیا کررہے ہو؟عرض کی:درخت لگا رہا ہوں۔ فرمایا:میں بہترین درخت لگا نے کا طریقہ بتا دوں!
سُبْحٰنَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاللہُ اَکْبَر
پڑھنے سے ہر کلمہ کے عوض (عِ۔ وَض ۔یعنی