میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے! سیِّدُناامام جعفر صادِق علیہ رَحمَۃُ اللہِ الخالق لوگوں کی مُنافَقَت والی رَوِش سے تنگ آکرخَلوَت(تنہائی)میں تشریف فرما ہو گئے۔اس پاکیزہ دور میں بھی یہ صورتِ حال ہونے لگی تھی تو اب تو جو حال بے حال ہے اُس کا کس سے شکوہ کیجئے۔ آہ!آج کل تو اکثر لوگوں کاحال ہی عجیب ہو گیا ہے جب باہم ملتے ہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ نہایت تعظیم کے ساتھ پیش آتے اورخوب حال اَحوال پوچھتے ہیں، ہر طرح کی خاطر داری اور خوب مہمان داری کرتے ہیں کبھی ٹھنڈی بوتل پلا کرنِہال کرتے ہیں توکبھی چائے پلا کر ،پان گٹکے سے منہ لال کرتے ہیں ۔بظاہِر ہنس ہنس کرخوش کلامی و قیل و قال کرتے ہیں مگر اپنے دل میں اُس کے بارے میں بُغض و ملال رکھتے ہیں، اِسی لئے تو ملنے والے جُوں ہی جُدا ہوتے ہیں ان کی غیبتیں شروع کر دیتے ہیں، ان کے عُیوب بیان کر کے ہنستے ہیں کہ فُلاں شخص ایسا ہے فُلاں ویسا ہے فُلاں شخص کو کیا ہو گیا ہے ہمیشہ بن ٹھن کرپھرتا ہے اورفُلاں شخص کی چال کیسی عجیب ہے کہ دیکھ کر ہنسی آتی ہے اورفُلاں شخص کتنا بے حیا ہے کہ اس کی باتوں کو بیان کرنے ہی سے ہم کو شرم آتی ہے اور فُلاں شخص مغرور معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں سے باتیں بَہُت کم کرتا ہے اورفُلاں شخص بے وُقوف ہے لوگوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں رکھتا اور فُلاں شخص عجیب مسخرہ ہے کہ گویا ہیجڑا ہو!فُلاں بَہُت شرارتی ہے ، فُلاں میرے پیسے کھا گیا ہے، ارے وہ تو پکّا 420 ہے ۔