حضرت سیِّدُنا بِشر حافی علیہ رَحمَۃُ اللہِ الکافی فرماتے ہیں:ان لوگوں پر تَعَجُّب ہے جو پیچھے سے تواسلامی بھائیوں کی غیبت کر کے اُن کی عزّت کی دھجّیاں اُڑاتے ہیں مگر جب سامنے آتے ہیں تو خوب مَحَبَّت کا اظہار کرتے اوران کی تعریف شروع کر دیتے ہیں۔
(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۷)
جب حضرتِ سیِّدُناامام جعفر صادِق علیہ رَحمَۃُ اللہِ الْخالِق تارِکُ الدُّنیا(یعنی گوشہ نشین)ہو گئے تو حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی نے حاضرِ خدمت ہو کرکہا:تارِکُ الدُّنیا ہونے سے مخلوق آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے فُیُوض و بَرَکات سے محروم ہو گئی ہے!آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے جواب میں مُندَرَجَہ ذَیل دو شعر پڑھے ؎
ذَھَبَ الْوَفَا ءُ ذِھَابَ اَمْسِ الذَّاھِبِ وَالنَّاسُ بَیْنَ مُخَایِلٍ وَّ مَآرِبٖ
یُفْـشُـوْنَ بَیْنَھُمُ الْمَـوَدَّۃَ وَالْـوَفَا وَ قُلُوبُـھُـمْ مَحْـشُـوَّۃٌ بِعَـقَـا رِ بٖ
یعنی وفاکسی جانے والے کل کی طرح چلی گئی اورلوگ اپنے خیالات میں غَرَق ہو کر رہ گئے۔لوگ یوں تو ایک دوسرے کے ساتھ اظہارِمَحَبَّت و وفا کرتے ہیں لیکن ان کے دل ایک دوسرے کے بغض وکینے کے بچھوؤں سے لبریز ہیں!