Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
126 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھو بے شک تمہارا مجھ پر دُرُود پاک پڑھنا تمہارے گناہوں کیلئے مغفرت ہے۔
کی نیکیاں اپنے ہاتھ آرہی ہیں وہ بیوُقُوف ہے البتّہ کسی شَرعی وجہ سے غَضَب ناک ہونا صحیح ہے۔
(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۳)
غیبت کرنے والے کو سمجھانے کا ایک نیا انداز
سبحٰنَ اللہ !عزوجل حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدالوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی نے کتنے پیارے انداز میں سمجھایا ہے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ارشادِ گرامی سے ہمیں یہ بھی درس مل رہا ہے کہ اگر غیبت کرنے والے کے ساتھ جوابی کاروائی کی گئی تو نفر ت کی دیوار مزید مضبوط ہو جائے گی ، فسادبڑھے گا او ر اگر اُس کو مَحَبَّت سے سمجھانے کی کوشش کی گئی تو
اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ
وہ غیبت ہی سے باز آجائیگا۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ، ''ناچاقیوں کا علاج''صَفْحَہ 22تا23پر ہے:یہ اُصول یا درکھئے کہ نَجاست کو نَجاست سے نہیں، پانی سے پاک کیا جاتا ہے لہٰذا اگر کوئی آپ کے ساتھ نادانی بھرا سلوک کرے تب بھی آپ اس کے ساتھ مَحَبَّت بھر اسلوک کرنے کی کوشِش فرمائیے
اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ
اس کے مُثْبَت نتائج دیکھ کر آپ کا کلیجہ ضَرور ٹھنڈا ہوگا ۔
وَاللہِ الْمُجیب!عَزَّوَجَلَّ
وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں جو اینٹ کا جواب پتھّر سے دینے کے بجائے ظلم کرنے والے کو مُعاف کردیتے اور بُرائی کو بھلائی سے ٹا لتے ہیں ۔بُرائی کو بھلائی سے ٹا لنے کی ترغیب کے ضمن میں پارہ 24سورہ حمٰ اَلسَّجْدہ کی 34 ویں آیتِ کریمہ میں ارشادِ ہے :
اِدْفَعْ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَبَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾
 (پ 24حم السجدہ34)
ترجَمہ  کنزالایمان :اے سننے والے ! برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دو ست۔
چشمِ کرم ہو ایسی کہ مِٹ جائے ہر خطا

کوئی  گناہ مجھ سے نہ شیطاں کرا سکے
Flag Counter