میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! ہرنیا کا درد جو کسی دوا سے نہ جاتا تھا مَدَنی قافلے میں سفر کی بَرَکت سے چلا گیا ۔ دیکھئے شِفا منجانب اللہ عَزَّوَجَلَّ یعنی شفا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ملتی ہے،بِالفرض کسی کا مَدَنی قافلے میں درد نہ بھی جائے اور بیماری دور نہ بھی ہو تب بھی دلبرداشتہ نہیں ہو نا چاہئے، بیماری کے فضائل پر نظر رکھتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہنا چاہئے۔چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''جلد اوّل صَفْحَہ802پر ہے:رسولُ اﷲ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا اور فرمایاکہ مومِن جب بیمار ہو پھر اچھا ہو جائے، اس کی بیماری گناہوں سے کفّارہ ہو جاتی ہے اور آئِندہ کے لیے نصیحت اورمنافِق جب بیمار ہوا پھر اچھا ہوا، اس کی مثال اونٹ کی ہے کہ مالک نے اسے باندھا پھر کھول دیا تو نہ اسے یہ معلوم کہ کیوں باندھا، نہ یہ کہ کیوں کھولا!ایک شخص نے عرض کی:یا رسول اﷲ(عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!بیماری کیا چیز ہے، میں تو کبھی بیمار نہ ہوا؟ فرمایا :ہمارے پاس سے اٹھ جا کہ تو ہم میں سے نہیں۔