| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رَحمتیں بھیجتا ہے۔
نقصان یا چالان ہو جائے،اَلْغَرَض کسی قسم کی بھی مصیبت آئے اِس پر بعض لوگ خوشی کا اظہار کر کے شُماتَت کی آفت میں جاپڑتے ہیں بلکہ بعض جو کہ ضَرورت سے زیادہ باتونی اور بے عمل ہونے کے باوُجود اپنے آپ کو ''پہنچا ہوا''سمجھ بیٹھتے ہیں وہ تو یہاں تک بول پڑتے ہیں کہ دیکھا!ہم کو ستایا تو اُس کے ساتھ ''ایسا''ہو گیا !گویا وہ چھپی باتوں اورسَربَستہ(یعنی خفیہ )رازوں کے جاننے والے ہیں اور آں بدولت(یعنی اِن)کو اپنے مخالف پر آنے والی مصیبت کے اسباب معلوم ہو جاتے ہیں ، ایسے لوگوں کو ڈر جانا چاہئے کہحُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی اِحیاء ُ العلوم جلد اوّل صَفْحہ171پرفرماتے ہیں:کہا گیا ہے کہ کچھ گناہ ایسے ہیں جن کی سزا''بُرا خاتِمہ ''ہے ہم اس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں۔ یہ گناہ''ولایت اور کرامت کاجھوٹا دعویٰ کرنا ہے۔''
مدنی! گناہ کی عادتیں نہیں جاتیں آپ ہی کچھ کریں میں نے کوششیں کیں بَہُت مگر مری حالت آہ! بُری رہی
تین کام نہیں کر سکتے تو یوں کر لو
ایک دانا کا قول ہے کہ اگر تین کام کرنے سے عاجز ہو تو پھر تین کام یوں کر لو (۱)اگر بھلائی نہیں کر سکتے تو برائی سے بھی رُک جاؤ(۲)اگر لوگوں کو نفع نہیں دے سکتے تو تکلیف بھی مت دو(۳)اگرنفلی روزہ نہیں رکھ سکتے تو(غیبت کر کے)لوگوں کا گوشت بھی مت کھاؤ۔
(تَنبِیہُ الْغافِلین ص۸۹)
مسلمان کی عزّت بزرگوں کی نظر میں
ایک بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''ہم نے اسلاف (یعنی گزشتہ بزرگوں)کو دیکھا کہ وہ حضرات لوگوں کی بے عزّتی کرنے سے بچنے کو نَماز روزے سے بڑھ کر عبادت تصوُّر کیا کرتے تھے۔
(ذَمُّ الْغِیبَۃلِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ص۹۴ رقم۵۵)