(سُنَنِ تِرمِذی ج۴ ص۲۲۷حدیث۲۵۱۴)
کسی کی مصیبت پر خوش ہونے کی مثالیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شُماتَت یعنی مسلمان کی تکلیف پر خوشی کے اظہار سے پرہیز کیجئے۔اگرکسی مسلمان کی مصیبت پر دل میں خود بخود خوشی پیدا ہوئی تو اِس کا قُصور نہیں تا ہم اِس خوشی کو دل سے نکالنے کی بھر پور سَعی کرے اگر خوشی کا اظہار کرے گا تو شُماتَت کا مُرتکب ہو گا ۔ آج کل شُماتَت کے نظّارے عام ہیں۔ ایک طالبِ علم پڑھائی میں کمزور ہو جائے ، امتحان میں ناکام ہو جائے تو بعض اوقات دوسرا طالب علم خوش ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح کسی بڑے نعت خوان کی آواز بیٹھ جائے تو کبھی چھوٹا نعت خوان راضی ہوتاہے، یوں ہی قُرّاء(یعنی قاری صاحبان) مُبَلِّغین ،مقرِّرین،کاریگروں، دکانداروں ، کارخانے داروں وغیرہ وغیرہ کے دل میں آج کل اکثر ایک دوسرے کے خلاف ''شُماتَت ''کامذموم جذبہ داخِل ہو جاتا ہے۔ اگر آپس میں ناراضی ہو جائے پھر تو شُماتَت کی آفت بآسانی فَریقَین کے دلوں میں داخِل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ذِہن یہ بن جاتا ہے مثَلاً جس سے ناراضی ہو تی ہے اگر وہ یا اس کا بچّہ بیمار ہو جائے ، اُس کے یہاں ڈاکہ پڑ جائے ، مال چوری ہوجائے ، کاروبار ٹھپ ہوجائے، گھر ڈَھے(یعنی گر)پڑے، حادِثہ ہو جائے ، مقدَّمہ قائم ہوجائے، پولیس گرفتار کر لے، گاڑی کا