(اَلْقَوْلُ الْبَدِ یع ص ۲۶۰)
آپ کا نامِ نامی اے صلِّ علیٰ
ہر جگہ ہر مصیبت میں کام آ گیا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
قبر میں آقا کیوں نہیں آ سکتے!
سبحٰنَ اللہ!کثرتِ دُرُود شریف کی بَرَکت سے مدد کرنے کیلئے قبر میں جب فِرِشتہ آ سکتا ہے تو تمام فِرِشتوں کے بھی آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کرم کیوں نہیں فرما سکتے!کسی نے بالکل بجا تو فریاد کی ہے ؎
میں گور اندھیری میں گھبراؤں گا جب تنہا امداد مری کرنے آجانا مرے آقا
روشن مِری تُربت کو لِلّٰہ شہا کرنا جب نَزع کاوقت آئے دیدار عطا کرنا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
پُلْصراط پر روک دیا جائے گا
مدینے کے سلطان، رحمتِ عالمیان ، سرورِذیشان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:جو شخص مسلمان پر کوئی بات کہے اس سے مقصود عیب لگانا ہو، اﷲ تعالیٰ اُس کو پُل صراط پر روکے گا جب تک اس چیز سے نہ نکلے جو اس نے کہی۔''
(سُنَنِ ابوداو،د ج۴ ص۳۵۴حدیث ۴۸۸۳)