Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
116 - 504
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس کے پاس میرا ذکر ہو اور اُس نے مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھا اُس نے جفاء کی۔
بسا اَوقات اُس کا جِی اِسی سِیاہی کے سَبَب نیکی میں نہیں لگتا اور وہ سنّتوں بھرے مَدَنی ماحَول سے بھاگنے ہی کی تدبیریں سوچتا ہے۔اُس کا نَفْس اُسے لمبی اُمّیدیں دِلاتا ،غَفْلت اُسے گھیر لیتی اور وہ بد نصیب سنتّوں بھرے مَدَنی ماحَول سے دُور جاپڑتا ہے۔
گناہوں نے  میری کمر  توڑ ڈالی       مرا  حشر  میں  ہو گا  کیا  یا الہٰی 

بنا دے مجھے نیک نیکوں کا صدقہ       گناہوں  سے  ہر  دم  بچا  یا الہٰی
بجاہ ا لنبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                  صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تُوبُوا   اِلَی  اللہ!                   اَسْتَغْفِرُاللہ

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                  صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
زَبان کا غلط استِعمال قَبْر میں پھنسا سکتا ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی خفیہ تدبیر کس کے بارے میں کیا ہے کوئی نہیں جانتا وہ چاہے تو صغیرہ گناہ پر پکڑ فرما لے اور چاہے تو ڈھیروں گناہ بھی مُعاف فرما دے اور چاہے تو کسی ایک اچّھے عمل کے سبب اپنے دامنِ رحمت میں لے لے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدنا ابو بکر شبلی بغدادی علیہ رَحمَۃُ اللہِ الھادی فرماتے ہیں:میں نے اپنے مرحوم پڑو سی کو خواب میں دیکھ کرپوچھا،
مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ؟
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ وہ بولا: میں سخت ہولناکیوں سے دو چا ر ہو ا،مُنَکر نکیر کے سُوالات کے جوابات بھی مجھ سے نہیں بن پڑ رہے تھے، میں نے دل میں خیال کیا کہ شاید میراخاتمہ ایمان پر نہیں ہوا !اتنے میں آواز آئی: ''دنیامیں زَبان کے غیر ضَروری استِعمال کی وجہ سے تجھے یہ سزا دی جارہی ہے ۔''اب عذاب کے فِرِ شتے میری طر ف بڑھے۔ اتنے میں ایک صاحِب جو حُسن و جمال کے پیکر اور مُعَطَّر مُعَطَّر تھے
Flag Counter