میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! مَدَنی قافلے کی بھی کیسی کیسی برکتیں ہیں! مَدَنی قافلے کی بَرَکت سے دل کاظاہری درد دُور ہو گیاباطِنی امراض والوں کے
اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
دل کا باطِنی مرض بھی مَدَنی قافِلے کی بَرَکت سے دُور ہو گا۔ خدا کی قسم! ظاہری درد کے مقابلے میں دل کا باطِنی مرض کروڑوں درجے خطرناک ہے۔ بلکہ دونوں میں مُماثَلَت کی کوئی صورت ہی نہیں۔ دل کاظاہری درد صبر کرنے والے کیلئے سببِ دُخولِ جنَّت ہے جبکہ دل کا باطِنی مرض دنیا و آخِرت میں باعثِ ہلاکت ہے۔باطِنی مرض کو اِس روایت سے سمجھنے کی کوشش فرمایئے چُنانچِہ
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''فیضانِ سنَّت''جلد اوّل صَفْحَہ920 تا921 پر ہے :حدیثِ مُبارَک میں آتا ہے :جب کوئی انسان گُناہ کرتا ہے تو اُس کے دل پر ایک سیاہ نُقطہ بن جاتا ہے، جب دوسری بار گُناہ کرتا ہے تو دُوسرا سِیاہ نُقطہ بنتا ہے یہاں تک کہ اُس کا دِل سِیاہ ہوجاتا ہے۔ نتیجۃً بَھلائی کی بات اُس کے دِل پر اثر انداز نہیں ہوتی ۔
(تفسیردُرّ مَنثور ج۸ص۴۴۶)
نصیحت کااثر نہ ہونے کی وجہ
اب ظاہِر ہے کہ جس کا دِل ہی زنگ آلُودا ور سیاہ ہوچکا ہو اُس پر بَھلائی کی بات اور نصیحت کہاں اثر کرے گی!ایسے انسان کا گُناہوں سے باز و بیزار رہنا نِہایت ہی دُشوار ہوجاتا ہے،اُس کا دِل نیکی کی طرف مائِل ہی نہیں ہوتا،اگروہ نیکی کی طرف آبھی گیا تو