| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پرروزِ جُمُعہ دو سو بار دُرُود پاک پڑھا اُس کے دو سو سال کے گناہ مُعاف ہوں گے۔
کی ایسی حق تلفیوں کو کوئی بھی مفتی اسلامجائز نہیں کہہ سکتا ۔اِس طرح کی ہڑتال حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔ اِس طرح کے جذباتی اِقدامات سے دین ودنیا کے نقصانات کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔ عُمُوماً ہڑتالی جلدہی تھک جاتے ہیں اور بالآخِر انتِظامیہ ان پر قابو پالیتی ہے)
ضَروری وضاحت:
قتلِ مسلم میں شرعاً تین حقوق ہیں:(۱)حقُّ اللہ (۲)حقِّ مقتول (۳)حقِّ وُرَثاء ۔ مقتول نے اگر زندگی میں پیشگی مُعاف کر دیا ہو تو صرف اُسی کا حق مُعاف ہو گا، حقُّ اللہ سے خلاصی کیلئے سچّی توبہ کرے، حقِّ وُرَثاء کا تعلُّق صِرف وارِثوں سے ہے وہ چاہیں تو مُعاف کریں ، چاہیں تو قِصاص لیں۔ اگر دنیا میں مُعافی یا قِصاص کی ترکیب نہ بنی تو قِیامت کے روز وُرَثا اپنے حق کا مُطالَبہ کر سکتے ہیں۔
صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے
میں نے الیاس قادِری کو مُعاف کیا
تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے دست بستہ عاجِزانہ عرض کرتا ہوں کہ اگر میں نے آپ میں سے کسی کی غیبت کی ہو،تُہمت دھری ہو،ڈانٹ پلائی ہو، کسی طرح سے دل آزاری کی ہو مجھے مُعاف مُعاف اور مُعاف فرما دیجئے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا حقُّ العبد جو تصوُّر کیاجا سکتا ہے فرض کیجئے کہ وہ میں نے آپ کا تَلَف کر دیا ہے وہ بھی اور چھوٹے سے چھوٹا حق جو ضائع کیا ہو اُسے بھی مُعاف کر دیجئے اور ثوابِ عظیم کے حقدار بنئے۔ہاتھ باندھ کر مدنی التجاء ہے کہ کم از کم ایک بار دل کی گہرائی کے ساتھ کہدیجئے :''میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے محمد الیاس عطّارؔ قادِری رضوی کو مُعاف کیا۔''
قرضخواہوں سے مَدَنی التجاء
جس کا مجھ پر قرض آتا ہو یا میں نے کوئی چیز عارِیتاًلی ہو اورواپس نہ لوٹائی ہو تو وہ دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران یاغلامزادوں سے رُجوع کرے، اگر وُصول کرنا نہیں چاہتا تواللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کیلئے مُعافی کی بھیک سے نواز کر ثوابِ آخِرت کا حقدار