تو برائے وَصل کر دن آمدی
نے برائے فصل کردن آمدی
(یعنی تو جوڑ پیدا کرنے کیلئے آیا ہے توڑ پیدا کرنے کیلئے نہیں آیا)
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ!
سگِ مدینہ عفی عنہ نے رِضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ پانے کی نیّت سے اپنے قرضداروں کو پچھلے قرضوں،مال چرانے والوں کوچوریوں،ہر ایک کو غیبتوں ، تہمتوں ، تذلیلوں، ضربوں سمیت تمام جانی مالی حُقُوق مُعاف کئے اور آئندہ کیلئے بھی تمام ترحُقُوق پیشگی ہی مُعاف کر دیئے ہیں چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کا مطبوعہ 16 صَفحات پر مشتمل رسالہ ، ''مَدَنی وَصیّت نامہ''صَفْحَہ 10پرعزّت و آبرو اور جان کیمُتَعَلِّق ہے: مجھے جو کوئی گالی دے ،بُرا بھلا کہے(غیبتیں کرے )، زخمی کردے یا کسی طرح بھی دل آزاری کا سبب بنے میں اُسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے پیشگی مُعا ف کرچکا ہوں ، مجھے ستانے والوں سے کوئی انتِقام نہ لے۔بِالفرض کوئی مجھے شہید کردے تو میری طرف سے اُسے میرے حُقُوق مُعاف ہیں۔وُرَثاء سے بھی درخواست ہے کہ اسے اپنا حق مُعاف کر دیں(اور مُقدّمہ وغیرہ دائر نہ کریں)۔ اگر سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شَفاعَت کے صَدقے محشر میں خُصوصی کرم ہوگیا تو
اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
اپنے قاتِل یعنی مجھے شہادت کا جام پلانے والے کوبھی جنّت میں لیتا جاؤں گابشرطیکہ اُس کا خاتِمہ ایمان پر ہوا ہو۔(اگر میری شہادت عمل میں آئے تو اِس کی وجہ سے کسی قسم کے ہنگامے اور ہڑتالیں نہ کی جائیں۔اگر''ہڑتال''اِ س کا نام ہے کہ لوگوں کا کاروبار زبردستی بند کروایا جائے۔نیز دکانوں اور گاڑیوں پر پتھراؤوغیرہ ہو ۔ تو بندوں