| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جب تم مُرسلین (علیھم السلام )پر دُرُود پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امام زین العابِدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشادِ گرامی کے معنیٰ یہ ہیں کہ آج کے روز میری غیبت کرنے والے سے دُنیا و آخِرت میں بدلہ نہیں لوں گا۔اس سے مُراد ہرگز یہ نہیں کہ غیبت کرناجائز ہو گیا ۔ غیبت بدستور گناہ ہی رہے گی اور اس کی توبہ بھی واجِب ہو گی، ہاں غیبت کے تعلُّق سے حقُّ العَبد مُعاف ہوگیا۔ وہ بھی فقط اُس دن کا جس دن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عزّت صَدَقہ کی۔ اس سے ترغیب لیتے ہوئے ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی اپنی غیبت و دل آزاری وغیرہ کرنے والے کو پیشگی ہی مُعافی دیدیں اور اب تک جنہوں نے جتنے حُقُوق تلف کئے انہیں بھی رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کیلئے مُعاف کر دیں۔ مُعاف کرنے کے فضائل کی بھی کیا بات ہے اِس ضِمن میں دو روایات مُلاحَظہ ہوں چُنانچِہ
(۱) مُعاف کرنے کی عظیم الشان فضیلت
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ32 صَفحات پر مشتمل رسالے ، ''غصّے کاعلاج''صَفْحَہ 32پر ہے: قِیامت کے روز اعلان کیا جائے گا جس کا اَجراللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمہ کرم پر ہے، وہ اٹھے اور جنّت میں داخل ہو جائے۔ پوچھا جائے گا کس کے لیے اجر ہے؟ وہ کہے گا:''ان لوگوں کے لیے جو معاف کرنے والے ہیں۔''تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنَّت میں داخل ہوجائیں گے۔
(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطّبَرانی ج۱ ص۵۴۲ حدیث ۱۹۹۸)
(2)جنّت پانے کے تین۳ نُسخے
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ48 صَفحات پر مشتمل رسالے، ''ناچاقیوں کا علاج'' صَفْحَہ 28تا29پر ہے:حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،رسولُ اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :تین۳ باتیں جس شخص میں ہوں گی اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن)اُس کا حساب بَہُت آسان طریقے سے لے گا اور اُس کو(اپنی رَحمت