| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) مجھ پر دُرُود شریف پڑھو اللہ تعالی تم پر رحمت بھیجے گا۔
میں نے اپنی عزت لوگوں پر صدقہ کی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غیبت ایک ایسی آفت ہے کہ اِس سے بَہُت ہی کم مسلمان محفوظ ہوں گے، ہمیں غیبت اور دیگر گناہوں سے بچنے ، دوسروں کو بچانے اور گنہگاروں کے گناہوں کا بوجھ کم کرنے کی سعی کرنی چاہئے ۔ دوسروں کا بوجھ کم کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جتنا ہو سکے ہم اپنے حُقُوق مسلمانوں کو مُعاف کر دیں۔اِس کی ترغیب دلاتے ہوئے رسولِ بے مثال ، صاحبِ جُودو نَوال، حبیبِ ربِّ ذُوالجلال، بی بی آمِنہ کے لال عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کثرت کے ساتھ یہ ارشاد فرماتے :کیا تم میں سے کوئی ایک اس بات سے عاجز ہے کہ وہ اَبُوْ ضَمْضَمْ کی طرح ہو ۔ انہوں نے عرض کی : اَبُوْ ضَمْضَم کون ہے ؟ ارشادفرمایا: پہلے لوگوں (یعنی پچھلی امت)میں ایک شخص تھا وہ صبح کے وقت یوں کہتا:یا اللہ عَزَّوَجَلَّ!:میں نے آج کے دن اپنی عزّت کو اس آدمی پر صَدَقہ کر دیا جو مجھ پر ظلم کرے ۔
(شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص۲۶۱ حدیث۸۰۸۲ )
پیشگی مُعاف کرنے والے کی مغفِرت ہو گئی
ایک مسلمان نے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی:یااللہ عَزَّوَجَلَّ!میرے پاس مال نہیں کہ میں صَدَقہ کروں تو جو شخص میری عزّت کے در پے ہو تو یہ میری طرف سے اُس پر صَدَقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف وَحی بھیجی کہ میں نے اس شخص کو بخش دیا۔
( اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ ص ۲۱۹)
امامِ مظلوم کی اپنی عزّت کے متعلّق سخاوت
امامِ مظلوم حضرت سیدنا امام زین العابِدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اپنے گھر سے نکلتے توکہتے :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میں آج صَدَقہ کروں گا اور وہ یہ کہ آج جو میری غیبت کرے اُس کو میں نے اپنی عزّت دے دی ۔
(حیاۃُالحییوانِ الکُبری ج ۱ ص ۲۰۲ )