اِس کی اُمّید مشکِل کہ وہاں ہر شخص اپنے اپنے حال میں گرفتار ،نیکیوں کا طلبگار(اور)بُرائیوں سے بیزار ہو گا۔ پَرائی نیکیاں اپنے ہاتھ آتے اپنی بُرائیاں اُس(یعنی دوسرے)کے سر جاتے کسے بُری معلوم ہوتی ہیں!یہاں تک کہ حدیث میں آیا ہے کہ ماں باپ کا بیٹے پر کچھ دَین(حُقُوق کامطالبہ)آتا ہو گا اُسے روزِ قِیامت پیٹیں گے کہ ہمارا دَین(حق)دے !وہ کہے گا :میں تمہارا بچّہ ہوں ، یعنی شاید رحم کریں، وہ(یعنی والِدین)تمنّا کرینگے کاش !۱ور زیادہ (حق)ہوتا(تاکہ بیٹے سے نیکیاں لیکر یا اپنے گناہ اُس کے سر ڈال کر اپنی خَلاصی کروائیں)۔طَبَرانی میں ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،انہوں نے کہا کہ میں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم سے سنا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم فرما رہے تھے کہ والِدَین کا بیٹے پر دَین ہو گا قِیامت کے روز والِدَین بیٹے پر لپکیں گے تو بیٹا کہے گا:میں تمہارا بیٹا ہوں تو والِدَین کو حق دلایا جائے گا اور وہ تمنّا کرینگے کاش! ہمارا حق اور زائِد ہوتا۔ ۱؎ جب ماں باپ کایہ حال تو اوروں سے اُمّیدخام خیال(یعنی فُضُول خیال)،ہاں کریم و رحیم مالک و مولیٰ جلَّ جلالُہٗ وَ تبارَکَ وَ تعالٰی جس پر رحم فرمانا چاہے گا تو یوں کریگا کہ حق والے کو بے بَہا قُصورِ جنّت(یعنی جنّت کے عالی شان مَحَلّات)مُعاوَضے میں عطا فرما کرعَفْوِ حق(یعنی حق مُعاف کرنے) پر راضی کر دے گا ۔ایک کرشمہ کرم میں دونوں کابھلا ہو گا !نہ اِس کی حَسَنات(یعنی نیکیاں)اُسے دی گئیں نہ اُس کی سَیِّأات(یعنی بدیاں )اِس کے سر رکھی گئیں نہ اُس کا حق ضائِع ہونے پایا بلکہ حق سے ہزاروں دَرَجے بہتر افضل پایا ، رحمتِ حق کی بندہ نوازی (بھی خوب کہ)ظالم ناجی (یعنی نَجات پائے اور )مظلوم راضی (ہو جائے)،