غیبت کرنے سننے کی عادت نکالنے،نمازوں اور سنّتوں پر عمل کی عادت ڈالنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابستہ رہئے، سنّتوں کی تربیت کیلئے مَدَنی قافِلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کیجئے،کامیاب زندگی گزارنے اور آخِرت سنوارنے کیلئے مَدَنی انعامات کے مطابِق عمل کرکے روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے رسالہ پُر کیجئے اور ہر مَدَنی ماہ کی 10 تاریخ کے اندر اندر اپنے ذمّے دار کو جمع کروایئے اور عاشقانِ رسول کے ساتھ مل کر جشنِ ولادت کی خوب دھومیں مچایئے اِس کی بَرَکت کے بھی کیا کہنے!شہر تَرَاڑ کَھْلْ ضِلع سَدْھنَوتی(کشمیر)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے:ربیع النُّور شریف (۱۴۳۰ھ )کی بارہویں شب ہمارے یہاں کی مسجد میں جشنِ ولادت کی خوشی میں سبز جھنڈے اور چَراغاں کی ترکیب کی جارہی تھی۔ دریں اَثنا چار افراد جو کہ نشہ باز تھے مسجِد کے امام صاحِب کی خدمت میں حاضِر ہو کر عرض گزار ہوئے: ہم نشہ کرنے کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ خیال آیاآج عیدِ میلادالنّبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رات بھی کیا ہم نشے کا گناہ کریں گے!کیوں نہ ہم توبہ کرلیں لہٰذا آپ کے پاس حاضِر ہوئے ہیں ۔ چنانچِہ انہوں نے توبہ کی اور مسجِد میں ہونے والے جشنِ ولادت کی بہاریں لوٹنے میں شریک ہو گئے۔ امام صاحب نے دعوتِ اسلامی کے ذمّے داران سے رابِطہ کیا، اسلامی بھائی مسجد پہنچے اور انہوں نے ان سے پُر تپاک طریقے پر ملاقات کی اور ہاتھوں ہاتھ مَدَنی قافلے کے جدول کے مطابق ان کی تربیَّت شروع کر دی، اُن کا سیکھنے سکھانے کا شوق دِیدنی تھا ۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
جشنِ ولادت کی برکت سے چاروں نے نَمازوں کی پابندی نِبھانے ، داڑھی مبارک سجانے ،