سرکارِمدینہ منوّرہ،سردارِمکّہ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرے۔
(سُنَنِ ابوداو،د ج ۴ ص۳۹۱حدیث۵۰۰۴)
ایک مقام پر ارشاد فرمایا:مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ دو سرے مسلمان کی طرف آنکھ سے اِس طرح اشارہ کرے جس سے تکلیف پہنچے۔
(اَلزُّھْد لِابن مُبارَک ص۲۴۰ رقم۶۸۹،اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی ج۷ ص ۱۷۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مسلمان کو یوں تو تکلیف و ایذء دینا بَہُت ہی آسان لگتا ہے۔ اُس کو جھاڑدیا اِس کو لَتا ڑ دیا، اُس کی غیبت کر دی اِس پر تہمت جڑ دی، لیکن ناراضئ ربُّ العزّت کی صورت میں آخِرت میں یہ سب بَہُت بھاری پڑ جائے گا، چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ الْمدینہ کا مطبوعہ رسالہ ، ''ظلم کا انجام'' صَفْحَہ21پر ہے:حضرتِ سیِّدُنا یزید بن شَجَرہ رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:جس طرح سمندر کے کَنارے ہوتے ہیں اِسی طرح جہنَّم کے بھی کَنارے ہیں جن میں بُختی اونٹوں جیسے سانپ اور خَچّروں جیسے بچھّو رہتے ہیں ۔اہلِ جہنَّم جب عذاب میں کمی کیلئے فریاد کریں گے تو حکم ہوگاکَناروں سے باہَر نکلو وہ جُوں ہی نکلیں گے تو وہ سانپ انہیں ہونٹوں اورچِہروں سے پکڑ لیں گے اور ان کی کھال تک اُتارلیں گے وہ لوگ وہاں سے بچنے کیلئے آگ کی طرف بھاگیں گے پھر ان پر کھجلی مُسَلَّط کردی جائے گی وہ اس قَدَرکُھجائیں گے کہ ان کاگوشت پوست سب جَھڑ جائے گا اور صرف ہڈّیاں رَہ جائیں گی، پکار پڑے گی: اے فُلاں! کیا تجھے تکلیف ہورہی ہے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ تو کہا جائے گا: یہ اُس اِیذاء کا بدلہ ہے جو تو مومِنوں کو دیا کرتا تھا۔
(اَلتَّرْغِیب وَالتَّرْہِیب ج۴ ص۲۸۰ حدیث ۵۶۴۹ )