Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
103 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
دونوں میں بڑا فرق ہے ۔ یہاں اس معنی کا بھی احتمال(امکان)ہے کہ کسی دوسرے کو حقیر نہ جان کیونکہ ممکن ہے کہ وہ عزیز(یعنی عزّت والا)ہو جائے اورتُو ذلیل ہو جائے پھر وہ تجھ سے انتِقام لے ۔
لَا تُھِین الْفَقِیر عَلَّکَ اَنْ 

تَرْکَعَ یومًا وَّالدَّھْرُ قَدْ رَفَعَہْ
یعنی:فقیر(یعنی غریب آدمی)کی توہین نہ کر شاید تو کسی دن فقیر(یعنی غریب ) ہو جائے اور زمانے کا مالک عَزَّوَجَلَّ اسے امیر کردے۔
(اَلزَّواجِرُ عَنِ اقْتِرافِ الْکبائِر ج۲ ص۱۱)
مسلمان کون؟مہاجر کون؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مسلمان کیلئے ضَروری ہے کہ اُس کی ذات سے کسی مسلمان کو کسی طرح کی بھی ناحق تکلیف نہ پہنچے، نہ اس کامال لوٹے ، نہ عزّت خراب کرے، نہ اِسے جھاڑے نہ اِسے مارے نیزمسلمانوں کو آپَس میں جھگڑنے سے کیا واسِطہ ! یہ تو ایک دوسرے کے مُحافِظ ہوتے ہیں، چُنانچہ اللہ کے مَحبوب ،
دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کافرمانِ ہدایت نشان ہے:(کامل)مسلمان وہ ہے جس کی زَبان اور ہاتھ سے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے اور (کامل)مُہاجِر وہ ہے جو اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اﷲتعالیٰ نے مَنع فرمایا ہے۔
(صَحیح بُخاری ج۱ ص۱۵ حدیث ۱۰)
    اِس حدیثِ پاک کے تَحت مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں کہ کامل مسلمان وہ ہے جولُغَۃً (یعنی لُغوی اعتبارسے)اورشرعاً(بھی)ہر طرح مسلمان ہو۔(اور)وہ مومن ہے جو کسی مسلمان کی غیبت نہ کرے، گالی، طعنہ، چُغلی وغیرہ نہ کرے، کسی کو نہ مارے پیٹے، نہ اس کے خلاف کچھ تحریر کرے۔ مزید فرماتے ہیں کہ کامل مُہاجِر وہ مسلمان ہے جو ترک ِوطن کے ساتھ ترک ِگناہ بھی کرے، یا گناہ چھوڑنا بھی لُغَۃً (یعنی لُغوی اعتبارسے)
Flag Counter